یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 64 of 117

یادوں کے دریچے — Page 64

اولاد کی رائے کا احترام 64 ربوہ واپس آنے پر مجھے آپ کا خط ملا کہ تم مع بیوی اور بچے کے چند ہفتوں کے لئے ایبٹ آباد چلے جاؤ۔کیونکہ ایک لمبا عرصہ تم نے لگا تار کام کیا ہے تمہیں اب کچھ آرام کی ضرورت ہے۔ایبٹ آباد سے واپس ربوہ آنے پر مجھے تحریک جدید میں بطور وکیل الزراعت مقرر فرمایا۔ان دنوں سندھ اراضیات پر کپاس کی چنائی شروع تھی۔مجھے دفتر میں کام کرتے چند دن ہی گزرے تھے کہ وکیل اعلیٰ صاحب تحریک جدید میرے دفتر کے کمرہ میں تشریف لائے اور ابا جان کا ایک خط جوان کے نام تھا مجھے لا کر دیا کہ اس کو پڑھ لیں۔اس خط میں لکھا تھا کہ میں نے سلطان طاہر کلرک دفتر وکالت زراعت کو ہدایت دی تھی کہ ہر بدھ کے روز اس ہفتہ کی چنائی کپاس کی رپورٹ صبح 11 بجے تک مجھے بھجوا دیا کرے ، کل یہ رپورٹ مجھے نہیں ملی۔اس لئے اس کو ایک ماہ کی تنخواہ جرمانہ کی جاتی ہے۔میں نے خط پڑھ کر وکیل اعلیٰ صاحب کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ میں نے خط پڑھ لیا ہے۔ان کے جانے کے بعد میں نے ابا جان کی خدمت میں لکھا کہ وکیل اعلیٰ صاحب نے وکالت زراعت کے کلرک کو جرمانہ کرنے کے فیصلہ سے مجھے اطلاع دے دی ہے لیکن اس فیصلہ سے مجھے اتفاق نہیں۔کیونکہ ہر دفتر کا افسر اعلیٰ جملہ امور کا نگران اور اس کی کارکردگی کا جواب دہ ہے۔غلطی کی سزا ضرور ملنی چاہئے لیکن یہ سزا کلرک کو نہیں مجھے ملنی چاہئے کیونکہ اصل ذمہ داری میری ہے۔میرے اس خط کا جواب مجھے نہیں وکیل اعلیٰ صاحب کو یہ آیا کہ میرا یہ حکم کہ ہفتہ وار رپورٹ بھجوائی جائے مرزا مبارک احمد کے وکالت زراعت کا چارج لینے سے قبل کا ہے۔اس لئے اس کا قصور نہیں کلرک کا ہی قصور ہے اس لئے کلرک کو جرمانہ کیا جائے۔وکیل اعلیٰ صاحب یہ خط لے کر پھر میرے پاس آئے کہ حضور کا یہ حکم ملا ہے اس کی تعمیل کی جائے گی۔میں نے دوبارہ ابا جان کی خدمت میں اپنی رائے کے اظہار کے ساتھ یہ بھی لکھ دیا کہ بالا افسر کو چھوڑ کر ماتحت کارکن کو دفتری غفلت کی وجہ سے سزا دی جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ افسر اپنے ماتحتوں سے تعاون حاصل نہیں کر سکے گا ، نہ وہ بشاشت سے کام کریں گے۔اس لئے میری درخواست ہے کہ اس غلطی کی سزا تو ضرور دی جائے لیکن یہ سزا مجھے ملنی چاہئے نہ کہ کلرک کو۔میرے اس خط کا جواب پھر وکیل اعلیٰ کے نام ہی آیا کہ غلطی کی سزا تو ضرور ملے گی اس لئے مرزا مبارک احمد کو