یادوں کے دریچے — Page 66
66 پڑھنے میں دلچسپی ہوگی۔میں نے جواب دیا کہ جاسوسی ناول میں۔اسی وقت اپنے لائبریرین کو بلا کر کہا کہ کل سے یہ لائبریری آجایا کرے گا اور جاسوسی ناول لے جایا کرے گا ، پڑھنے کے بعد آپ کو کتاب واپس دے جایا کرے گا۔مزید جو چاہے اس کو دے دیا کریں۔جب لائبریری میں موجود جملہ جاسوسی ناول پڑھ چکا اور آپ کو تسلی ہو گئی کہ اب مدرسہ کے نصاب کے علاوہ بھی اس کو کتب کے مطالعہ کا شوق پیدا ہو چکا ہے تو دوسرے مضامین مثلاً جغرافیہ، تاریخ وغیرہ کی کتب پڑھنے کا ارشاد فرمایا اور مجھے نصیحت کی کہ شروع میں رات سونے سے قبل کم از کم ایک صفحہ کتاب کا ضرور پڑھنا ہے اور آہستہ آہستہ صفحات کی تعداد بڑھاتے جانا۔اس طرح جنرل نالج میں اضافہ ہوگا اور اس کے بغیر کوئی شخص ہر مجلس میں اپنا اثر نہیں چھوڑ سکتا۔اس حکیمانہ طریق نے مجھے پڑھنے کی ایسی عادت ڈال دی کہ بغیر کچھ پڑھے رات کو نیند نہ آتی۔جیسا ذکر کر چکا ہوں ابتداء تحریک جدید میں تقر ر بطور وکیل الزراعت ہوا۔تین سال کا عرصہ گزرنے پر 1953 ء میں مجھے بطور وکیل التبشیر مقرر فرمایا۔وکالت تبشیر کی نگرانی سپر دفرمانے کے بعد ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس کا ذکر پیشگوئی میں مذکور الفاظ وہ سخت ذہین و فہیم ہوگا “ پر روشنی ڈالنے کے لئے بطور مثال درج ہے۔ورنہ یہ حقیقت ہے کہ آپ کا ہر فیصلہ آپ کے سخت ذہین اور فہیم ہونے کی منہ بولتی دلیل ہے۔معافی کے لئے خلیفہ وقت کا دروازہ کھلا ہے ہوا یوں کہ ایک ملک میں جماعت کے ایک پریذیڈنٹ نے اپنی ایک لڑکی کا بیاہ ایک غیر از جماعت سے کر دیا۔اس پر جماعت کی مجلس عاملہ نے بشمول مبلغ حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں ان کے اخراج از نظام جماعت کی سفارش کی۔حسب قواعد یہ خط میری معرفت آیا تھا۔میں نے بھی اس سے اتفاق کیا اور حضور کی خدمت میں اس سزا کی سفارش کر دی۔اس کا جواب مجھے ملا کہ آپ اخراج از جماعت کر دیں ان الفاظ سے میں یہی سمجھا کہ میں نے سفارش کرنے میں غلطی کی ہے اور حضور نے اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔کیونکہ اخراج از جماعت کی سزا دینے کا اختیار خلیفہ وقت کے علاوہ اور کسی کو نہیں۔چنانچہ اسی وقت میں نے معافی کا خط آپ کی خدمت میں لکھا۔