یادوں کے دریچے — Page 63
63 خدمت کرنے کی فرمائش کی گئی ہے۔اس کے لئے احمدی رضا کا روہاں متعین ہوں گے میں چاہتا ہوں کہ تم اس کام کے انچارج ہو۔ساتھ ہی فرمایا کہ میں حکم نہیں دے رہا۔باقی بھائیوں کی طرح تم بھی قادیان میں رہے۔تم بھی بغیر بیوی اور بچے کے وہاں رہے اب وہ سب اپنے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہے ہیں اور تمہیں ایک مرتبہ پھر ایک خطرہ کی حالت میں بیوی اور بچے سے علیحدہ رہنا پڑے گا۔اس لئے میں تمہیں حکماً یہ فرض ادا کرنے کے لئے نہیں کہہ رہا۔ہاں میری خواہش ہے کہ یہ ذمہ داری تم اٹھاؤ آگے تمہاری مرضی پر چھوڑتا ہوں۔میں نے ایک منٹ کے توقف کے بغیر عرض کیا کہ میں اس کے لئے تیار ہوں۔کب روانہ ہوں آج رات کو ؟ فرما ئیں تو آج رات کو ہی چلا جاؤں گا۔اس پر فر مایا کہ نہیں کل شام یا پرسوں روانہ ہونا ہوگا۔کل تمہیں بتا دیا جائے گا۔چنانچہ اگلی شام کو ہی میں اپنی ڈیوٹی کے مقام کی طرف روانہ ہو گیا۔جو ضلع سیالکوٹ کے ایک گاؤں ”معراجکے‘ میں تھا۔لیکن چند ہفتوں کے بعد اس جگہ سے کشمیر کے محاذ پر منتقل کر دیا گیا اور باقاعدہ رضا کار بٹالین جس کا نام ” فرقان فورس تھا اور سو فیصد احمد یوں پر مشتمل تھی کا قیام عمل میں آیا۔جنگ ختم ہو جانے کے بعد بٹالین کے وہاں قیام کا مقصد پورا ہو چکا تھا اس لئے کچھ عرصہ مزید قیام کے بعد جماعت کی درخواست پر فرقان بٹالین کو ختم کر دیا گیا اور حکومت کے انتظام کے ماتحت ایک سپیشل ٹرین سے ہم لوگ واپس ربوہ پہنچے۔رمضان کا مہینہ تھا مگر روزہ رکھنے سے منع فرمایا کہ جہاد میں روزہ رکھنے کی اجازت نہیں۔اس وقت ابا جان کو ئٹہ میں مقیم تھے۔خود تشریف نہیں لا سکے لیکن عبدالرحیم در دصاحب کے ذریعہ خوش آمدید کا پیغام لکھ کر بھجوایا۔جس میں اس امر کا اظہار بھی فرمایا کہ میری خواہش تھی کہ میں خود ربوہ آکر فرقان بٹالین کے مجاہدین کا استقبال کروں۔لیکن طبیعت کی خرابی کی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو سکا۔آپ کا یہ پیغام ربوہ میں ایک جلسہ منعقد کر کے سنایا گیا۔کشمیر کے محاذ پر جماعتی خدمات اور قربانی کی تاریخ لکھنا مقصود نہیں۔یہ تاریخ احمدیت کا ایک سنہری باب ہے جو تاریخ لکھنے والے لکھتے رہیں گے۔میں نے تو صرف ابا جان کے طریق عمل کے اظہار کے لئے ضمناً اس کا ذکر کیا ہے اور وہ یہ کہ ہر بات میں حکم نہ دیتے تھے۔موقع اور محل کے لحاظ سے بچوں کو کبھی حکم کبھی خواہش کا اظہار، کبھی کسی بچے کی غلطی کے نتیجہ میں اس سے خاموش رہتے جس سے آپ کی ناراضگی کا اظہار ہو جاتا اور اصلاح کی طرف توجہ ہو جاتی۔