یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 62 of 117

یادوں کے دریچے — Page 62

62 بھی عملاً مسدود تھے۔اکثر دال یا آلو گوشت اور تندور کی روٹی ہی پکتی تھی اور فی کس راشن مقررفرما دیا۔جو تھوڑ اسا سالن اور ایک روٹی پر مشتمل تھا۔جس میں کوئی استثناء نہ تھی نہ اپنے لئے نہ کسی اور کے لئے۔ایک دن آپ اوپر کی منزل میں برآمدہ میں ٹہل رہے تھے کہ عزیز انس احمد ابن مرزا ناصر احمد صاحب کے رونے کی آواز حضرت ابا جان کو آئی۔آپ نے دریافت فرمایا کہ انس کیوں رورہا ہے۔یہ معلوم ہونے پر کہ ایک روٹی سے اس کا پیٹ نہیں بھرتا اس لئے اپنا مقررہ کھانا ختم کر کے مزید کے لئے رورہا ہے جس کی اجازت نہیں۔آپ نے فرمایا کہ جو میرا فیصلہ ہے اس میں تو کوئی استثناء نہیں کروں گا البتہ میرے حصہ کی جو ایک روٹی ہے اس کی نصف انس کو دونوں کھانوں کے وقت دے دی جائے۔جس کی تعمیل کی جاتی رہی۔تقسیم ملک کے بعد جب سارا خاندان مع سینکڑوں دیگر احمد یوں کے رتن باغ لاہور میں قیام پذیر تھا ان سب کے کھانے کا خرچ آپ برداشت کرتے رہے تھے اس کا ذکر پہلے کر چکا ہوں۔ابا جان کو ہماری والدہ کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا بہت پسند تھا لیکن لاہور میں ان دنوں آپ خود بھی ایک روٹی اور شور بہ پر ہی گزارا کر رہے تھے جو باقی سب افراد کے لئے مقرر تھا۔ہماری ایک چھوٹی بہن امتہ النصیر نے مجھ سے ذکر کیا کہ ایک دن امی جان نے اپنے ہاتھ سے ایک چھوٹی سی چیز جو ابا جان کو پسند تھی ان کے لئے پکائی اور میرے ہاتھ روٹی سالن کے ساتھ ایک پرچ میں ڈال کر ابا جان کو بھجوا دی۔ابا جان نے ڈھکنا اٹھا کر پوچھا کہ یہ کہاں سے آئی ہے۔میں نے بتایا کہ امی جان نے یہ آپ کے لئے چولہے پر پکائی ہے۔کھانے لگے تو مجھے کہا کہ تم بھی میرے ساتھ کھاؤ۔میں نے جوابا کہا کہ یہ اتنی تھوڑی سی چیز ہے آپ کھائیں۔میں حسب معمول باقی بھائی بہنوں کے ساتھ کھانا کھالوں گی۔اس پر آپ نے فرمایا کہ کیا تم مجھے ظالم سمجھتی ہو؟ میں کھاؤں اور بچی نہ کھائے۔مجھے مجبور کر کے ساتھ کھلایا جو ایک چھوٹا سا ٹکڑا گوشت کا تھا۔اپنے بچوں کی فرقان فورس میں بھرتی لاہور پہنچنے کے چند دن بعد ہی ابا جان کا پیغام ملا کہ مجھے آکر ملو۔میں اسی وقت اٹھ کر اوپر کی منزل میں گیا جہاں ایک چھوٹے سے کمرے میں ابا جان کی رہائش تھی۔جا کر سلام کیا۔مجھے بیٹھنے کا ارشاد فرمایا۔جب میں بیٹھ گیا تو فرمایا کہ حکومت پاکستان کی طرف سے آزاد کشمیر میں رضا کا رانہ