یادوں کے دریچے — Page 28
28 پڑھ کر اصلاح کر سکے۔دوبارہ دیکھنے سے کئی اصلاحیں ہو جاتی ہیں اور نمبر زیادہ ہو جاتے ہیں۔رول نمبر کے لکھنے میں احتیاط کرے۔کئی لڑکے نمبر لکھنا یا ہدایات کی پیروی کرنا بھول جاتے ہیں۔گھر سے دعا کر کے جانا چاہئے اور پر چہ سے پہلے دل میں دعا کر لینی چاہئے۔امتحان کے دنوں میں رات کو زیادہ جا گنا نہیں چاہئے تا دماغ تھکا ہوا نہ ہو میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد ابا جان نے مجھے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخل کروا دیا۔ابھی ہوسٹل میں چند دن ہی گزرے تھے کہ ابا جان کا خط مجھے ملا جو اس نیت سے درج کر رہا ہوں کہ قارئیں اندازہ لگا سکیں کہ حضرت مصلح موعودؓ کو اپنی اولاد کی اسلامی اقدار اور اسلامی تعلیم پر عمل اور اس کا ٹھیٹھ نمونہ پیش کرنے کی کتنی فکر تھی۔اس خط میں لکھتے ہیں : اللہ تعالیٰ تم کو دین کی خدمت کی اور اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔اپنی اولا د ہر ایک کو پیاری ہوتی ہے لیکن ہر مومن کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سلسلہ کو اپنی اولاد، جان، مال، عزت ہر اک شے سے زیادہ پیار کرے۔اس لئے تم لوگ مجھے اس وقت تک عزیز ہو اور اسی نسبت سے جس نسبت سے کہ دین کی خدمت کا خیال تمہارے دل میں ہوا اور جس نسبت سے کہ تم لوگ دین کے لئے قربانی کے لئے تیار رہو۔“ خاکسار مرزا محمود احمد ان دنوں گورنمنٹ کالج لاہور میں اکثر طلباء امراء اور راجوں مہاراجوں اور نوابوں کے بچے ہوتے تھے جو چیفس کالج لاہور سے اپنی تعلیم مکمل کر کے گورنمنٹ کالج میں داخل کئے جاتے تھے۔انگریز کا زمانہ تھا اس لئے ظاہر ہے کہ اکثریت انگریزی لباس میں ملبوس ، ہر قسم کے فیشن کے دلدادہ۔مجھ سے بھی غلطی ہوئی کہ کالج میں داخل ہوتے ہی سوٹ سلوائے اور پہننا شروع کر دئے۔دو تین ماہ ہی ہوئے تھے کہ ابا جان کی خدمت میں ایک احمدی دوست جن کا سائیکلوں کا کاروبار نیلہ گنبد میں تھا جو ہمارے کالج کے راستہ میں تھا انہوں نے مجھے یوروپین لباس میں دیکھ کر ابا جان کو خط لکھا کہ مجھے اس لباس میں ان کو دیکھ کر بہت تکلیف ہوئی ہے۔یہ خط قادیان پہنچا اور ابا جان نے پرائیویٹ سیکرٹری کے ایک کلرک کے ہاتھ مجھے خط بھجوایا۔میں نے کھولا تو اس میں لکھا تھا کہ مجھے تمہاری شکایت پہنچی ہے کہ تم