یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 27 of 117

یادوں کے دریچے — Page 27

یادوں کے دریچ 27 بیماری کے ایام میں جماعت کو مخاطب کر کے حضور کے لئے خاص دعا کی تحریک فرمائی تھی۔وہ شعر یہ ہے : قوم احمد جاگ تو بھی جاگ اس کے واسطے ان گنت راتیں جو تیرے درد میں سویا نہیں ب علمی کے زمانہ کی باتیں یاد آرہی ہیں پہلے وہی لکھ دوں۔مولوی فاضل کا امتحان دیا ، گرمیوں کا موسم شروع ہوا لیکن ابھی نتیجہ نکلنے میں کچھ وقت باقی تھا کہ ابا جان پالم پور پہاڑ پر چند ماہ کے لئے تشریف لے گئے۔حسب معمول مجھے بھی ساتھ لے گئے۔وہیں پر نتیجہ کی اطلاع بذریعہ تار ملی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میں بہت اچھے نمبر لے کر پاس ہوا اور ابا جان کو اس خبر سے بڑی خوشی ہوئی۔بار بار فرماتے کہ حیرت ہے ناصر احمد جو بہت با قاعدگی سے پڑھنے والا تھا وہ پہلے سال فیل ہو گیا اور مبارک پاس ہو گیا اور وہ بھی اتنے اچھے نمبر لے کر۔اس خوشی میں کل سب عملہ اور وہ احباب جماعت جو مختلف شہروں سے آپ کو ملنے کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے اور ملازمین اور گھر والے پکنک کے لئے باہر جائیں گے۔کھانے کے لئے باورچی کو خود ہدایات دیں کہ فلاں فلاں کھانا پکایا جائے۔چائے کا سامان علیحدہ منگوایا۔اگلے دن صبح میری والدہ نے بتایا کہ تمہارے ابارات گئے تک کھانا پکانے کی خود ہی نگرانی کرتے رہے ہیں۔اگر ماں باپ کی طرف سے اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو ان کی تربیت کا یہ ایک بالواسطہ طریق ہے۔اس طرح بچوں میں بھی غیرت پیدا ہوتی ہے کہ وہ کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو والدین کی تکلیف کا باعث بنے۔دینی تعلیم مکمل ہونے پر میٹرک کی تیاری شروع کی۔میٹرک کا امتحان شروع ہونے سے قبل ابا جان نے بعض ہدایات لکھ کر دیں۔وہ ہدایات اس غرض سے نقل کر رہا ہوں کہ جماعت کے طالب علم ان سے استفادہ کرسکیں۔نقل درج ہے: امتحان کے ایام میں اس امر کا خیال رکھنا کہ ہمیشہ کچھ کھا کر جانا چاہئے گو زیادہ پیٹ نہ بھرا ہو اور پرچہ کے وقت سے نصف گھنٹہ پیشتر گھر سے روانہ ہونا چاہئے۔جولڑ کے اس خیال سے کہ کافی وقت ہے گھر سے دیر کر کے نکلتے ہیں بعض دفعہ اتفاقی حادثات کی وجہ سے پر چھ سے رہ جاتے ہیں۔پر چہ کو ہمیشہ دو تین دفعہ پڑھ کر جواب دینا شروع کرے اور پہلے آسان سوال کرے پھر مشکل۔اور اتنا وقت پہلے پرچہ ختم کرے کہ اسے دوبارہ اچھی طرح