یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 29 of 117

یادوں کے دریچے — Page 29

یادوں کے دریچ 29 کوٹ پتلون پہنتے ہو۔میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔اس لئے سب سوٹ اس آدمی کے ہاتھ فوراً مجھے بھجوا دو کیونکہ میں نے ان کو جلانا ہے۔اس خط کو پڑھ کر میرارڈ عمل جو ہوا وہ لکھے دیتا ہوں۔میں نے جواب میں لکھا کہ کالج میں آنے سے قبل آپ نے مجھے دینی تعلیم مکمل کروائی۔جس حد تک میراعلم ہے لباس کے متعلق اسلام نے کوئی پابندی نہیں لگائی کہ ایک مسلمان ایسالباس پہن سکتا ہے، ایسا نہیں پہن سکتا۔قرآن کریم میں صرف ایک لباس کا ذکر ہے اور وہ ہے لباس تقوی۔اس لئے آپ بحیثیت خلیفہ مجھے کسی خاص لباس کے پہنے یا نہ پہنے کا حکم تو نہیں دے سکتے البتہ باپ کا حکم ماننا ہر بچے کا فرض ہے اور میں باپ کے حکم کی تعمیل من وعن کروں گا اور آج سے یہ لباس نہیں پہنوں گا۔رہا سوال سوٹ بھجوانے کا اور آپ کا ان کو جلانے کا تو مجھے اس سے اتفاق نہیں۔کئی احمدی طالب علم کالجوں میں ہیں جو سوٹ پہنتے ہیں۔ان میں سے کچھ میرے دوست بھی ہیں ان کو یہ دے دوں گا وہ پہن لیں گے۔یہ خط لکھ کر بند کر کے میں نے اس کلرک کو دے دیا کہ میں نے جواب لکھ دیا ہے اب تم واپس جا سکتے ہو۔یہ کالج کے ابتدائی سال کا واقعہ ہے۔سال گزرتے گئے۔1955ء میں ابا جان یورپ علاج کے لئے تشریف لے گئے۔(اس سفر برائے علاج کی ضرورت اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ ایک بد بخت معاند نوجوان نے نماز پڑھاتے ہوئے حضرت صاحب کی گردن میں پھر اگھونپا تھا جو مین شہ رگ کے قریب تک پہنچ گیا تھا۔پھرے کا ایک ٹکڑا بھی اندر ٹوٹ گیا تھا ) اپنے اس سفر میں جن اہلِ خانہ اور بچوں کو آپ ساتھ لے جانا چاہتے تھے ان میں میرا نام بھی تھا۔میں نے عرض کر کے اجازت لے لی کہ میں اپنے خرچ پر جانا چاہتا ہوں۔ابا جان نے اجازت دے دی۔انگلستان پہنچنے کے چند دن بعد ہم یورپ کی سیر کے لئے روانہ ہو گئے۔ہماری لندن روانگی سے قبل حضرت صاحب نے مجھے ایک خط دیا جولندن کی ایک کار فروخت کرنے والی کمپنی کے مینیجر کے نام تھا۔اس میں لکھا تھا کہ میرا لڑکا یہ خط لے کر آئے گا اس کے لئے میں نے ایک کارآپ سے خریدی ہوئی ہے وہ اس کے حوالے کر دیں۔یہ کار HILLMAN MINX“ تھی۔حضرت صاحب نے پاکستان روانگی سے قبل تین کاریں ریز رو کروائی ہوئی تھیں۔یہ کار جو میرے لئے تھی ان میں سے ایک تھی۔نئی کا تھی۔رجسٹریشن ، انشورنس کمپنی نے کروا چھوڑی تھی۔غرض یورپ کے سفر اور انگلستان میں قیام کے لئے یہ کار ہمارے لئے ہی تھی۔اپنے خرچ پر جانے کا