یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 22 of 117

یادوں کے دریچے — Page 22

22 یادوں کے در بیچے نماز کا فکر ہوتا تو آنکھ ضرور کھل جاتی۔پھر مُڑ کر میری والدہ سے کہا کہ اس کے کپڑے کسی بکس میں رکھ دو، یہ میرے گھر نہیں رہ سکتا اس کو میں بورڈنگ میں بھجوا دیتا ہوں۔لیکن تھوڑی دیر بعد مجھے معاف بھی کر دیا اور ساتھ انتباہ بھی کی کہ آئندہ میں ایسی کوتا ہی برداشت نہ کروں گا۔اپنے بچوں کی مزاج شناسی باپ کا اپنی اولاد کے مزاج کا شناسا ہونا نہایت ضروری ہے۔ہر ماں باپ کی اولا دمختلف مزاج رکھتی ہے۔جیسے شکل وصورت ، رنگ وقد وغیرہ مختلف ہوتے ہیں مزاج بھی مختلف ہوتے ہیں۔پسند اور نا پسند میں بھی فرق ہوتا ہے۔اسی لئے ہر بچہ کے مزاج کے مطابق اس کی تربیت کا طریق اختیار کرنے سے ہی خاطر خواہ نتیجہ کی امید کی جاسکتی ہے۔کوئی بچہ بغیر حیل و حجت بات مان لیتا ہے کوئی چاہتا ہے کہ اس کو بتایا جائے کہ اس کو جو کرنے کے لئے کہا جا رہا ہے کیوں اور کس لئے کرے۔میرا مزاج بھی کچھ دوسری قسم کا تھا۔اگر کسی بات کو صحیح نہ جانتا تو اس کا اظہار ضرور کر دیتا تھا۔قادیان کے قریب ہمارا ایک آبائی گاؤں نواں پنڈ تھا۔جہاں ابا جان نے ٹینس کورٹ بنوایا ہوا تھا اور کبھی کبھی عصر کی نماز کے بعد وہاں ٹینس کھیلنے جاتے تھے۔پیدل جاتے تھے۔مغرب سے قبل جتنا وقت میسر ہوتا تھا ٹینس کھیل لیتے تھے اور یہی ایک ورزش تھی جو چوبیس گھنٹوں میں میسر آتی تھی۔آپ کے ٹینس کے ساتھی ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب، عبدالرحیم در د صاحب اور مولوی عبدالمغنی صاحب تھے۔ابا جان اور ڈاکٹر صاحب ایک طرف اور درد صاحب اور مغنی صاحب دوسری طرف۔یہ سلسلہ خلافت کے پہلے چند سال تک جاری رہا پھر کام کی کثرت نے اتنی ورزش سے بھی محروم کر دیا۔جب میں اس قابل ہوا کہ ٹینس کا ریکٹ پکڑ کر کچھ کھیل سکتا تو ٹینس کھیلنے کے لئے مجھے بھی ساتھ لے کر جانے لگے اور ہمارے بڑے بھائی مرزا ناصر احمد صاحب بھی کبھی کبھی کھیلنے ساتھ چلتے تھے۔ان دنوں انگلستان کا بنا ہوا ایک ریکٹ جس کا نام DOHERTY تھا آپ استعمال فرماتے تھے۔کچھ سال بعد آپ نے ڈو ہرٹی ریکٹ لاہور سے منگوا کر ہمارے بڑے بھائی کو دے دیا۔مجھے جب اس کا علم ہوا تو میں نے ایک ملازمہ کے ہاتھ ابا جان کو ایک رقعہ لکھ کر بھجوایا کہ آپ نے بھائی کو ریکٹ دیا ہے اور مجھے نہیں دیا الله اور یہ اسلامی تعلیم کے منافی ہے۔کیونکہ رسول کریم ﷺ نے ایک مرتبہ اپنے ایک صحابی کو جس نے