یادوں کے دریچے — Page 23
یادوں کے دریچ 23 23 الله اپنے ایک لڑکے کو غلام خرید کر دیا تھا اور دوسروں کو نہیں۔آنحضرت ﷺ کے دریافت فرمانے پر کہ کیا ہر لڑکے کو غلام دیا ہے؟ نفی میں جواب سن کر آپ نے ان صحابی کو ارشاد فرمایا کہ اس سے بھی غلام واپس لے لو۔اسی طرح کی ایک اور روایت ہے جس میں حضرت النعمان بن بشیر بیان کرتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے عطیہ دیا۔جب آنحضرت ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے بیان فرمایا کہ کیا باقی سب بچوں کو عطیہ دیا ہے؟ کہا نہیں۔اس پر آپ نے فرمایا فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ اولادِكُم “ میری اس حرکت کا یہ نتیجہ بھی نکل سکتا تھا کہ میری گوشمالی کی جاتی۔ناراضگی کا اظہار ہوتا۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔کسی قسم کی ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا۔جب ملا زمہ واپس آئی تو میں نے اس سے پوچھا کہ ابا جان نے کیا کہا ہے؟ تو اس نے بتایا کہ آپ نے رقعہ پڑھ کر رکھ لیا ہے۔کہا کچھ نہیں۔دو تین روز ہی گزرے تھے کہ ایک صبح کے وقت آپ ہاتھ میں ڈو ہرٹی ریکٹ پکڑے میرے پاس آئے اور مجھے دے کر فرمایا کہ یہ لوتمہارا ریکٹ۔میں نے تمہارے لئے لا ہور سے منگوایا ہے۔آپ کی طبیعت میں نہ بخل تھا نہ فضول خرچی۔قرآن کریم میں بیان فرمودہ حکم لَا تَجْعَلُ يَدَكَ مَغْلُولَةٌ إِلَى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطُهَا كُلَّ الْبَسْط ( بنی اسرائیل: 29) کا عملی نمونہ تھے۔گھر والوں کی جائز ضرورت بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ کم سے کم جائز ضرورت کو تو ضرور پورا کر دیتے مگر کسی جہت سے بھی فضول خرچی کو برداشت نہ کرتے تھے۔اگر کبھی تنگی کا وقت ہوتا یا رقم پاس موجود نہ ہوتی تو چھوٹے سے چھوٹے خرچ سے بھی انکار فرما دیتے۔ایک واقعہ جو میرے ساتھ گزرا اس پر روشنی ڈالنے کے لئے کافی ہوگا۔میں جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کر رہا تھا اور جامعہ کی ہاکی ٹیم کا کپتان تھا۔ہماری ٹیم مختلف شہروں کے کلبوں اور کالجوں سے ہاکی میچ کھیلنے جایا کرتی تھی۔خالصہ کالج امرتسر سے ٹیم نے میچ کھیلنے جانا تھا۔تین روپے فی کھلاڑی خرچ کا اندازہ لگا کر ہمارے ٹیوٹر نے سب کھلاڑیوں کو کہا کہ یہ رقم لا کر جمع کروا دی جائے۔میں نے ابا جان کی خدمت میں لکھا کہ ہم نے امرتسر میچ کھیلنے جانا ہے اس کا خرچ تین روپے مقرر ہوا ہے وہ مجھے دے دیں۔اس کا جواب یہ ملا کہ میرے پاس رقم نہیں ہے اس لئے تم نہیں جا سکتے۔میں نے غلطی کی اور دوبارہ لکھ دیا کہ تین روپے تو ایک معمولی رقم ہے اس لئے یہ رقم عطا فرمائیں تا میں میچ کھیلنے جاسکوں۔اس کا تحریری جواب صرف انکار تک محدود نہیں تھا جو کچھ اور لکھا اس کا ذکر کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں۔اس کو پڑھ کر جو شرمندگی اور دکھ مجھے ہوا اس دکھ کا احساس آج تک نہیں بھولا۔