یادوں کے دریچے — Page 21
یادوں کے دریچ 21 24 ہو عادت ذکر بھی ڈالو کہ یہ ممکن ہی نہیں دل میں ہو عشقِ صنم لب پہ مگر نام نہ ہو غیر ہو ئیسر ہو تنگی ہو کہ آسائش کچھ بھی ہو بند مگر دعوتِ اسلام نہ ہو تم نے دنیا بھی جو کی فتح تو کچھ بھی نہ کیا نفسِ وحشی و جفا کیش اگر رام نہ ہو من و احسان سے اعمال کو کرنا نہ خراب رشتہ وصل کہیں قطع سر بام نہ ہو گامزن ہو کے رہ صدق و صفا پر گر تم کوئی مشکل نہ رہے گی جو سرانجام نہ ہو ہم تو جس طرح بنے کام کئے جاتے ہیں آپ کے وقت میں یہ سلسلہ بدنام نہ ہو اس ضمن میں آپ نے جو کوشش اور کاوش کی وہ سوانح مصلح موعود میں یقینا آجائے گا۔نیز آنے والے زمانوں کے تاریخ دان اور علماء اور فلسفی اس پر بہت کچھ لکھیں گے۔میں صرف ایک واقعہ جو میرے سامنے ہوا بیان کرتا ہوں: ابا جان گھر کے بعض افراد کے ساتھ ڈلہوزی پہاڑ پر گرمیاں گزارنے گئے ہوئے تھے۔انہی دنوں ایک مبلغ سلسلہ انگلستان کے لئے روانہ ہونے والے تھے۔وہ حضرت صاحب سے الوداعی ملاقات اور ہدایات لینے کے لئے ڈلہوزی تشریف لائے۔جب روانہ ہونے لگے تو ابا جان ان کو لاری کے اڈہ تک چھوڑنے آئے۔ابھی بس کی روانگی میں چند منٹ باقی تھے۔سب احباب آپ کا گھیرا کئے ساتھ کھڑے تھے جن میں ناظر صاحب تعلیم و تربیت بھی تھے اور ان کا ایک چھوٹا بھائی جو ڈلہوزی ان کے ساتھ آیا ہوا تھا۔وہ بھی کھڑا تھا وہ داڑھی مونڈ تا تھا۔بس ایک نظر کی ضرورت تھی اس کی طرف نگاہ اٹھی اور مڑ کر ناظر صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا ” کیا تعلیم و تربیت صرف دوسروں کے لئے ہے ؟ اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا مگر اس ایک فقرہ میں بہت کچھ کہہ گئے۔یہ حقیقت ہے کہ کوئی وعظ ونصیحت دوسروں پر اثر نہیں کر سکتی اگر اپنے گھر کی اصلاح کی طرف توجہ نہ ہو۔اسلامی تعلیم میں مختلف انداز میں اس طرف توجہ دلائی گئی ہے۔عمل کی ضرورت ہے۔ایک اور واقعہ بھی جو مجھ پر گز را پیش کرتا ہوں۔میری عمر بمشکل نو سال کی تھی۔صبح کی نماز کے وقت میری آنکھ نہ کھلی نہ ہی مجھے کسی نے جگایا۔میں بستر پر سویا ہوا تھا۔ابا جان مسجد سے صبح کی نماز پڑھا کر گھر میں داخل ہوئے۔مجھے سویا ہوا دیکھا۔بازو پکڑ کر مجھے جگایا اور پوچھا کہ نماز کے لئے کیوں نہیں اٹھے؟ میں نے جواب میں کہا کہ میری آنکھ نہیں کھلی۔کہنے لگے کیوں نہیں کھلی ؟ اگر تمہیں