یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 20 of 117

یادوں کے دریچے — Page 20

بچوں کی تربیت 20 20 آپ کے ناک کی جس بہت تیز تھی۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بھینس یا گائے کے دودھ کا ایک گھونٹ لے کر بتا دیتے تھے کہ جانور نے کون سا چارہ کھایا ہے۔کسی قسم کی بد بو برداشت نہیں تھی۔غالباً اس لئے آپ عطر کا استعمال عموما کرتے اور اسی وجہ سے خود عطر بنانے کا شوق بھی فرماتے۔اپنے اور عزیزوں کے استعمال کے لئے جب کوئی نیا عطر بنتا تو اپنی بیویوں اور بچیوں کو بھی سنگھاتے اور پوچھتے کہ یہ عطر کیسا ہے۔ایک دفعہ کوئی نیا عطر بنایا تو آپ نے ہماری بڑی بہن کو بلا کر کہا کہ ہاتھ آگے کرو میں یہ عطر تمہیں لگاتا ہوں پھر بتانا کہ کیسا ہے؟ ہماری ہمشیرہ نے اپنی ہتھیلی آگے کی تو فرمایا کہ اس طرح نہیں اپنا ہا تھ الٹا کر کے میرے سامنے کرو۔پھر عطر لگایا اور فرمایا کہ سیدھا ہاتھ آگے کرنے سے مانگنے کی عادت پڑ سکتی ہے جو میں اپنی اولاد میں برداشت نہیں کر سکتا۔ایک چھوٹی سی بات میں کتنا بڑا اسبق دے گئے۔تربیت کی طرف توجہ صرف اپنے گھر تک محدود نہیں تھی۔ساری جماعت کو ہی اسلامی اقدار اور اسلامی تعلیم پر عمل کے اعلیٰ معیار پر دیکھنا چاہتے تھے۔صرف اپنے زمانہ کی ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی جس مقام پر دیکھنے کی آرزو تھی وہ آپ کی دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی دردمندانہ التجا اور دعا ایک نظم ” نو نہالانِ جماعت سے خطاب کے چند چیدہ چیدہ اشعار سے ظاہر ہے جو لکھے دیتا ہوں۔نونهالان جماعت مجھے کچھ کہنا ہے پر ہے یہ شرط کہ ضائع میرا پیغام نہ ہو جب گزر جائیں گے ہم تم پر پڑے گا سب بار سستیاں ترک کرو طالب آرام نہ ہو خدمت دین کو ایک فضل الہی جانو اس کے بدلے میں کبھی طالب انعام نہ ہو دل میں ہوسوز تو آنکھوں سے رواں ہوں آنسو تم میں اسلام کا ہو مغز فقط نام نہ ہو سر میں نخوت نہ ہو آنکھوں میں نہ برق غضب دل میں کینہ نہ ہو لب پہ کبھی دُشنام نہ ہو خیر اندیشی احباب رہے مدنظر عیب چینی نہ کرو مفسد و تمام نہ ہو رغبت دل سے ہوں پابندِ نماز و روزه نظر انداز کوئی حصہ احکام نہ ہو پاس ہو مال تو دو اس سے زکوۃ و صدقہ فکرِ مسکیں رہے تم کو غم ایام نہ ہو