یادوں کے دریچے — Page 19
19 بہت کمزور ہو گئے ہو بلکہ میری بہن جب ملنے گئی تو اسے بھی یہی فرمایا اور فرمایا کہ اپنے ابا جان سے کہو کہ طاہر کی صحت کا بہت خیال رکھیں اور بار بار میری صحت کے متعلق پوچھواتے۔اس قسم کے واقعات ہزار ہا لوگوں کے ساتھ ہوئے ہوں گے اور شاید ہر آدمی سمجھتا ہو گا کہ حضور نے مجھ سے خاص سلوک کیا تھا۔شائد مجھ سے خاص محبت تھی۔ہر دیوانہ خود ہی کو مجنوں سمجھتا رہا ہے اور اسی میں لذت ڈھونڈتا رہا ہے۔“ جماعت کے غرباء سے محبت 66 میں اپنے گھروں میں سادگی کے بارے میں بات کر رہا تھا ایک واقعہ یاد آ گیا جس کا اثر اب تک باقی ہے۔کافی عرصہ کے بعد ابا جان نے یو۔پی کے ایک گاؤں سے جہاں قالین کھڈیوں پر بنائے جاتے تھے اور بہت معمولی قسم کے موٹی اور کھردری اُون کے اور سستے ہوتے تھے۔ان قالینوں کے معمولی اور سستے ہونے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ فی قالین قیمت تقریباً چالیس روپے تھی منگوا کر سب گھروں میں ایک ایک قالین دے دیا۔ابھی چند دن ہی گزرے تھے کہ قادیان کے پڑوس کے ایک گاؤں میں ایک احمدی معمر خاتون کھتر میں ملبوس، ننگے پاؤں مٹی سے لت پت ابا جان سے ملنے آئیں۔اس وقت آپ اس کمرہ میں ہی بیٹھے تھے جہاں قالین بچھا ہوا تھا۔وہ بے تکلف سیدھی کمرہ میں داخل ہوئیں۔اتنے میں گھر میں سے کسی نے اس کا بُرا منایا کہ قالین پر مٹی سے بھرے ہوئے پاؤں لے کر آگئی ہیں۔منہ سے کسی نے کچھ نہیں کہا تھا لیکن وہ گہری نگاہیں فورا تاڑ گئیں کہ اس حرکت کو بُرا منایا گیا ہے۔آپ اسے برداشت نہ کر سکے۔آپ نے ایک ملازمہ کو بلا کر کہا کہ یہ قالین فوراً یہاں سے لے جا کر باہر پھینک دو۔اور فرمایا کہ جو قالین میرے اور میری جماعت کے غرباء کے راستے میں حائل ہے وہ میرے گھر میں نہیں بچھایا جاسکتا۔ہمیں ہمیشہ نصیحت کرتے کہ جماعت کے غرباء سے خاص طور پر عزت اور احترام کا سلوک کرنا اور ہمیشہ ان کو اپنے سے بہتر اور معزز جاننا ہے۔جب بھی کوئی ملنے آجاتا تو کھڑے ہو کر استقبال کرتے اور یہی ہمیں سکھایا۔اور نگرانی بھی فرماتے کہ یہ سبق بچے یا درکھتے ہیں یا نہیں۔تربیت کے ضمن میں چھوٹی سے چھوٹی بات کو بھی نظر انداز نہیں فرماتے تھے۔