یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 18 of 117

یادوں کے دریچے — Page 18

18 آٹے کی بنائی جاتی ہے کو کہتے ہیں ) ابھی تین ہفتے ہی گزرے تھے۔ہم کھانے پر بیٹھے تھے میں نے اسی طرح نصف پھل کا لے کر کھانا شروع کیا تو ابا جان نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ میں تین ہفتے سے دیکھ رہا ہوں کہ تم آدھا پھل کا کھا کر کھانا ختم کر دیتے ہو۔میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔تمہاری نشو و نما کی عمر ہے اس میں مناسب غذا بچوں کو کھانی چاہئے ورنہ قولی کمزور ہو جائیں گے۔پھر آئندہ زندگی کے بوجھ کیسے اٹھا سکو گے۔پھر فرمایا سالن اور روٹی اور لو اور میرے سامنے کھاؤ اور آئندہ ایسی حرکت نہ کرنا۔یہ تو ہوئی آپ بیتی۔بچوں کی صحیح نشو ونما کی طرف توجہ صرف اپنی اولا د تک محدود نہیں تھی جماعت کے سب بچے آپ کے بچوں کی طرح ہی تھے۔اس کی دو مثالیں جو میرے علم میں ہیں لکھے دیتا ہوں: جماعت کے ایک دوست جن کا حضرت مصلح موعودؓ سے بہت پیار کا تعلق تھا۔ایک دن وہ اپنے بڑے لڑکے کو اپنے ساتھ قادیان لائے۔مغرب کی نماز کے بعد جب حضرت صاحب واپس گھر جانے لگے تو حسب معمول دوستوں نے گھر کے دروازے تک قطار بنالی۔یہ نو جوان بھی قطار میں کھڑا تھا۔گزرتے گزرتے حضرت صاحب کی نظر اس کم عمر بچے پر پڑی تو آپ رُک گئے اور اس کا نام لے کر پاس بلایا اور کہا تم مجھے کمزور لگے ہو۔تمہارے ابا تمہارے مناسب کھانے کا معلوم ہوتا ہے انتظام نہیں کرتے۔ان سے کہنا کہ کل صبح مجھے دفتر آکر ملیں۔اگلے روز وہ دفتر میں حضور سے ملے تو آپ نے ان کو فر مایا کہ مجھے بہت رنج ہوا ہے آپ کے لڑکے کو دیکھ کر۔صحت کمزور لگی ہے۔اب آپ نے اس کی غذا کا خاص خیال رکھنا ہے اور ایک ماہ کے بعد اس کو ساتھ لا کر مجھے ملانا ہے تا میری تسلی ہو جائے کہ بچے کی پرورش صحیح طریق پر کی جارہی ہے۔یہ کہ کرفرمایا کہ صرف آپ کا بچہ نہیں جماعت کا ہر بچہ میرا بچہ ہے اور میں اپنی آئندہ نسل کو جسمانی لحاظ سے بھی کمزور نہیں دیکھ سکتا۔دوسری مثال بھی ایک مخلص دوست جن کا حضرت ابا جان سے بہت پیار کا تعلق تھا۔ان کے صاحبزادے جو ڈا کٹر ہیں اور امریکہ میں مقیم ہیں انہوں نے اپنا واقعہ لکھ کر ارسال کیا ہے۔لکھتے ہیں : حضور کی سیرت کا ایک رُخ اور بھی ہے جس سے ان کے محبت کرنے والے آگاہ نہیں ہیں۔اور یہ عشق کا تقاضا ہے کہ انسان جس سے محبت کرتا ہے اس کی ہر بات سے آگاہ ہونا چاہتا ہے۔بہر حال ایک محبت کرنے والے کا جدائی پر آنسو بہانا طبعی امر ہے اور ایسی ہستیاں لاکھوں سال بعد پیدا ہوتی ہیں۔حضور نے نہ صرف یہ فقرہ فرمایا تھا کہ تم