یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 15 of 117

یادوں کے دریچے — Page 15

15 اب میں اللہ کا نام لے کر اس سے مدد اور تائید کی التجا کرتے ہوئے اپنا بیان شروع کرتا ہوں: حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد حضرت اماں جان بہت غم زدہ اور خاموش رہنے لگی تھیں۔تینوں لڑکے اور دونوں لڑکیاں اپنے اپنے طریق پر حضرت اماں جان کی اس کیفیت کو دور کرنے کی کوشش میں لگے رہتے تھے مگر خاطر خواہ نتیجہ نظر نہ آتا تھا۔آپ کے بڑے فرزند حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد ( یہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ کی بات ہے مجھے اس بارہ میں یقینی علم نہیں ) نے پیشگوئی میں مذکور اپنے سخت ذہین و فہیم ہونے کا ثبوت اس طرح پیش کر دیا کہ آپ نے اپنے بڑے فرزند صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کو جن کی عمر اس وقت چھ سات سال کے لگ بھگ تھی ہماری والدہ کے گھر سے اپنے ہاتھ میں ان کی انگلی پکڑے حضرت اماں جان کی خدمت میں جا کر ، حضرت اماں جان کے ہاتھ میں ان کا ہاتھ دے کر عرض کیا کہ آج سے یہ آپ کا بیٹا ہے۔آپ کے پاس ہی رہے گا۔ایک چھوٹی عمر کے بچہ کی طرف ماؤں کو کتنی توجہ دینا پڑتی ہے۔ان کا کھانا پینا ، کپڑے، نہلا نا دھلا نا تعلیم و تربیت خاصا وقت چاہتا ہے۔اور طبعا اپنی طرف سے توجہ ہٹ کر بچے کی طرف مبذول ہو جاتی ہے۔یہاں بھی یہی نتیجہ نکلا اور حضرت اماں جان کی وہ کیفیت جو بیان کر چکا ہوں دور ہوتی گئی اور آپ بشاش اور خوش رہنے لگیں۔حضرت مصلح موعودؓ کے سفروں میں معیت میں آگے جو کچھ لکھوں گا اس سے ذہنوں میں ایک سوال پیدا ہو سکتا تھا جس کا جواب یہیں دینا مناسب سمجھا۔جہاں تک مجھے یاد ہے 1924 ء کے بعد سے شائد ہی کوئی آپ کا ایسا سفر ہو گا کہ مجھے ساتھ نہ لے گئے ہوں۔قادیان میں رہائش تو آپ کے ساتھ تھی ہی سفروں میں بھی آپ کی معیت میری نگرانی اور تربیت کا ذریعہ بنی۔اور یہی سبب ہے اس امر کا کہ میں آپ کے متعلق بعض ایسے واقعات وشواہد لکھنے کے قابل ہوا جن میں سے اکثر ضبط تحریر میں نہیں لائے جا سکے۔