یادوں کے دریچے — Page 14
14 ایک بلند مقام پر بیٹھا تھا۔اس کی خواہش میرے لئے ایسی ہی تھی جیسے ثریا کی خواہش۔نہ وہ ممکن تھی نہ یہ۔آخر دل کی بیتا بی رنگ لائی۔امید رآنے کی صورت ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے میری بیوی کے دل میں اسی طرح تحریک کی جس طرح خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دل میں رسول کریم ﷺ کی مدد کی تحریک کی تھی۔انہوں نے اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسا کنویں میں پھینک دینا اور خصوصاً اس اخبار میں جس کا جاری کرنے والا محمود ہو۔جو اس زمانہ میں شاید سب سے زیادہ مذموم تھا۔اپنے دوز یور مجھے دے دئے کہ میں ان کو فروخت کر کے اخبار جاری کروں۔اس حسنِ سلوک نے نہ صرف مجھے ہاتھ دیئے جن سے میں دین کی خدمت کرنے کے قابل ہوا اور میرے لئے زندگی کا ایک نیا ورق الٹ دیا۔بلکہ ساری جماعت کی زندگی کے لئے بھی ایک بہت بڑا سبب پیدا کر دیا۔میں حیران ہوتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ یہ سامان پیدا نہ کرتا تو میں کیا کرتا اور میرے لئے خدمت کا کون سا دروازہ کھولا جاتا اور جماعت میں روز مرہ بڑھنے والا فتنہ کس طرح دور کیا جا سکتا۔“ الفضل کے اجراء کے لئے اپنا زیور دینے والی میری والدہ حضرت ام ناصر کو حضرت مسیح موعود نے اپنے بڑے بیٹے سے شادی کے لئے منتخب فرمایا تھا۔