یادوں کے دریچے

by Other Authors

Page 16 of 117

یادوں کے دریچے — Page 16

16 بڑے بھائی تو حضرت اماں جان کی گود میں چلے گئے اور اب باقی بچوں سے (اپنی بڑی ہمشیرہ کے بعد ) بڑا لڑکا میں تھا۔اور یہ میری خوش بختی ہے کہ بچپن سے ہی اس عظیم انسان کے زیر تربیت آگیا جس کو آگے چل کر مصلح موعود کا مقام ملنے والا تھا۔تربیت کے مختلف طریق ، مختلف ذرائع اور مختلف جہات ہوتی ہیں۔ہر انسان معصوم پیدا ہوتا اور زندگی کے ابتدائی سال ماحول کی آلودگیوں سے پاک ہوتے اور اس کی سلیٹ بالکل صاف ہوتی ہے۔اس لئے بچپن سے ہی اگر بچوں پر کڑی نظر رکھ کر ان کی زندگی کو صحیح خطوط پر ڈھالنے کی کوشش کی جائے تو نقش اچھا جمتا ہے۔آپ کا یتامی سے حسن سلوک اور عدل و انصاف دار مسیح کے جس حصہ میں حضرت مسیح موعود کی رہائش تھی اس سے ملحق جو مکان کا حصہ تھا اس میں ہماری والدہ اور بچے رہتے تھے۔اس کے صحن میں بچے بعض گھر یلو کھیلیں شام کو کھیلتے تھے۔اسی طرح کی ایک کھیل ہم شام کو کھیل رہے تھے ایک لڑکی جو میری ہم عمر تھی ( اس وقت میری عمر آٹھ نو سال کی ہوگی ) اس نے کوئی ایسی بات کی جس پر مجھے غصہ آگیا اور میں نے اس کے منہ پر طمانچہ مارا۔عین اس وقت ابا جان صحن میں داخل ہو رہے تھے۔انہوں نے مجھے طمانچہ مارتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔سیدھے میری طرف آئے۔مجھے اپنے پاس بلا کر کھڑا کیا اور اس بچی کو بھی پاس بلایا اور اسے کہا کہ اس نے تمہیں مارا ہے تم بھی اس کے منہ پر طمانچہ مارو۔لیکن پھر بھی اسے جرات نہ ہوئی۔اس کے بعد غصے میں اور جوش میں مجھے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر تم یہ مجھتے ہو کہ اس کا باپ نہیں ہے اس لئے تم جو چاہو اس سے سلوک کر سکتے ہو تو اچھی طرح سن لو کہ میں اس کا باپ ہوں۔اور اب اگر تم نے اس پر انگلی بھی اٹھائی تو میں تمہیں سخت سزا دوں گا۔( مجھے بعد میں علم ہوا کہ یہ بچی ایک سید خاندان کی یتیم بچی تھی جو ابا جان نے اپنے زیر سایہ لے لی تھی۔) بیتامی کی خبر گیری ، ان سے اپنے بچوں کی طرح محبت اور شفقت کا سلوک ، ان کی مدد اسلامی تعلیم کا ایک بڑا پیارا حکم ہے۔یہ تو ایک یتیم بچی کے متعلق واقعہ ہے لیکن گھر کے جملہ ملا زم گھر کے افراد کی طرح ہی سمجھے جاتے تھے اور یہی ہمیں سمجھایا جاتا تھا۔ہماری مجال نہیں تھی کہ کسی ملازم سے تو نڑاک کریں۔سب گھروں میں بہت سادگی کا طریق آپ نے رکھا ہوا تھا۔نہ کوئی خاص فرنیچر نہ زیبائش