یادوں کے دریچے — Page 13
یادوں کے دریچ 13 کسی کو بھی جماعت نے خلیفہ منتخب نہیں کرنا۔حضور کی زندگی میں ہی ان لوگوں نے خفیہ خطوط اور دیگر ذرائع سے جماعت میں انتشار پھیلانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔نیز حضرت خلیفتہ اسیح الاوّل پر یہ تاثر پیدا کرنے کی بھی کوشش کرتے رہے کہ گویا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب آپ کے فرمانبردار نہیں ہیں۔اسی کا رڈ حضرت خلیفہ اسیح اول نے احمد یہ بلڈنگز لا ہور میں اپنی تقریر میں کھول کر کر دیا۔( جو ج“ پر درج ہے) الفضل کا اجراء حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد سے متعلق حضرت علینہ امسیح الاول سے ان ارشادات سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ اسی الاول پر انکشاف فرما دیا تھا کہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ہی پسر موعود ہیں۔اس فتنہ سے جماعت کو بچانے کے لئے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے مختلف ذرائع سے کوششیں شروع کر دیں اور آپ نے محسوس کیا کہ کسی اخبار کا جاری کرنا ضروری ہے۔اس کے بغیر ملک میں پھیلی ہوئی جماعتوں کو حالات سے باخبر نہیں رکھا جا سکے گا اور صحیح معنوں میں مرکز اور جماعت کے مابین رابطہ قائم نہیں ہو سکتا۔اس شدید ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے آپ نے جون 1913ء میں اخبار الفضل کا اجراء فرمایا۔اس بارہ میں آپ کا اپنا بیان درج ذیل ہے۔آپ فرماتے ہیں : اس لئے بموجب ارشاد حضرت خلیفہ اُسیح اول تو کل علی اللہ اس اخبار کو شائع کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔اخبار بدر اپنی مصلحتوں کی وجہ سے ہمارے لئے بند تھا۔اخبار الحکم اول تو ٹمٹماتے چراغ کی طرح کبھی کبھار نکلتا تھا اور جب نکلتا بھی تھا تو اپنے جلال کی وجہ سے لوگوں کی طبیعتوں پر جو اس وقت بہت نازک ہو چکی تھیں بہت گراں گزرتا تھا۔ریویو ا یک بالا ہستی تھی جس کا خیال بھی نہیں کیا جا سکتا تھا لے میں بے مال وزر تھا۔جان حاضر تھی مگر جو چیز میرے پاس نہ تھی وہ کہاں سے لاتا۔اس وقت سلسلہ کو ایک اخبار کی ضرورت تھی جو احمدیوں کے دلوں کو گرمائے ان کی سستی کو جھاڑے۔ان کی محبت کو اُبھارے۔ان کی ہمتوں کو بلند کرے اور یہ اخبار ثریا کے پاس