یادِ محمود ؓ — Page 57
57 57 نظم ایک غیر از جماعت صاحب کی لکھی ہوئی ہے۔اپنے مکتوب گرامی میں جو انہوں نے محترمی ایڈیٹر صاحب روز نامہ الفضل کے نام لکھا۔رقمطراز ہیں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا سانحہ ارتحال صرف جماعت احمد یہ کیلئے جگر خراش نہیں ہے بلکہ ان بے شمار ار باب نظر کیلئے بھی پیغام درد ہے جو ان کے افکار و اعمال سے ذہنی وروحانی فیضان حاصل کرتے تھے۔یقین کیجئے میں ایک غیر احمدی ہوں مگر ریڈیو پر حضور کی وفات حسرت آیات کی خبر سن کر چونک پڑا۔فرط جذبات سے فراموشی کا عالم طاری ہو گیا۔اس وقت ایک شاعر پر کیا گزرتی ہے اسے آپ کا دل جانتا ہوگا۔سازِ روح کے تار جھنجھنا اٹھے۔ڈوبی ہوئی کے میں ایک ٹوٹا پھوٹا نغمہ ابھرا۔نذر عقیدت کے طور پر ارسال کر رہا ہوں۔نیاز آگیں دامن ابا سینی گلار چی براسته بدین ضلع حیدرآباد ) ذرے ذرے میں انتشار ہے آج روح کونین بے قرار ہے گئی کیا امانت کبری؟ قوم کی قوم سوگوار ہے چھن گیسوئے امل آج آج ہیں؟ گل کی آنکھوں میں اشک شبنم ہیں چاند تارے شریک ماتم ہیں راز من فکاں فطرت کا ترجماں روزگار برہم آسماں تک اداس ہیں، کویا شور ہے، میر کارواں اٹھا محفل ذکر و فکر ویراں ہے دین عشق رسول رکھتا تھا میشی ریک نظر کا تارا تھا ثانی تھا تجبت نئے تھا، روح عزم চ عمل کا فتویٰ ہے دانا روشن ایک کارواں کو خدا امیر ما کارواں کا ཨ དསེ, ', · བྷ, عام کے اُصول رکھتا قبول حسن رکھتا کی نشانی 5 5 is اٹھا اٹھا تھا تھا تھا دور کا بانی تھا رہا رہا 223:2 چھوڑ گیا وہ (دامن اباسینی )