یادِ محمود ؓ — Page 58
58 ترے تصور بشر بشر کو نفس تا زمانہ افق افق روشنی ملے گی میں نئی نئی زندگی ملے گی حریم ربوه کا ذره ذره زبان فطرت سے سے کہہ کہہ رہا ہے بھی آؤ!! گلی گلی میں خدا ملے گا خودی ملے گی 10 سراپا سواد علم یقیں ہے گویا قدم نظر کو حسیں حسین آگہی ملے گی لذت کا ذائقہ ہے!! پوچھ حقیقی خوشی ملے گی حدیث یکھیں تری ملے گی فراق کیا ہے؟ میرے غم کو گلے لگا لے جو تیرے دیکھیں کتاب نبی کا ارشاد بھی ملے گا شخص تیرے قریب ہوگا امامت کا باب باب دیکھیں خدا کی تائید بھی ملے وہ شخص عرفاں نصیب نصیب ہوگا میں اتنی کمی ملے گی بے دھڑک سنا دو جو تجھ ނ جتنا بعید ہوگا اسی خلافت حق کے منکروا کو سنا اور رو ازل ނ نوع بشر کو نعمت نہ لائیں محبت نہ دیں دلیلیں یہی ملی ہے یہی ملے ملے گی ہیں بنام خرد کی دیوانگی ނ مسیح پی لیں جنوں کی فرزانگی ملے گی تکیں گے محشر میں بے بسی مری طرف قہر کے فرشتے!! کہ تیرے کوچے کی خاک مولی مرے لفن میں بھی ملے گی (دامن اباسینی )