یادِ محمود ؓ — Page 56
56 56 اے جانے والے تو میری آنکھوں کا نور تھا پیارے حبیب تو مرے دل کا آغوش والدین بھی مجھ کو نہ دے ایسا سرور تھا سکون جیسا کہ تیرے حضور تھا رحمت کا تو نشان تھا قربت کا تو سبب جو تجھ وہ خدا سے بھی سے دور تھا دور تھا ہر لحظہ تو مظفر و منصور ہی رہا میدان کارزار میں تیرا ظہور تھا کرتے تھے تیری دید سے تاریکیوں کو دور مضطر دلوں کے واسطے اک تو ہی طور تھا اب تیرے بعد زندگی کیا زندگی رہی اس شمع زندگی کا فقط تو ہی نور تھا شبیر تیرے درد کی ہے بس یہی ترک مرضی خدا رضائے خویش لئے مرضی دوا ( الحاج چوہدری شبیر احمد وکیل المال )