یادِ محمود ؓ — Page 42
42 سوچی نہ تھی جو ہم نے کبھی ہم نے کبھی بات ہوگئی کیسی آج گردش حالات ہوگئی شاید کہ بادلوں میں ہی پانی نہ تھا رہا آنکھوں سے آنسوؤں کی جو برسات ہوگئی دن بھی گزارنا ہمارے لئے کٹھن ہے مشکل سے جو کٹے گی وہی رات ہوگئی اللہ کی رضا شکایت نہیں ہمیں کوئی خطا ہی باعث آفات آفات ہوگئی اُن کی خورشید نصیحتوں سمجھو ہمارا ہو گر عمل ان ملاقات ہوگئی (مبشر خورشید)