یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 43 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 43

43 نجیں افسردہ ہیں شامیں ویران ہیں گلیاں خاموش ہیں کوچے سنسان ہیں دیکھتے دیکھتے رونقیں رونقیں کیا کیا ہوئیں؟ آج ربوہ کے لوگ حیران ہیں دی آج شجر ہر ہر حجر آج افسردگی کو ہساروں دل کس قدر بے ہے سرنگوں ہے ہے شق آنکھ ہے خونچکاں سوگواروں چاندنی ماند ہے چاند بھی ماند وہ چمک ༡ ہے چمک بھی ستاروں میں باقی نہیں باغ سے نے وہ پھول توڑا ہے شحم دلکشی اب بہاروں میں باقی نہیں ہے چل دیا آج وہ انسانیت جس کی ہستی انسان کو ناز تھا وہ پرائے کا غم خوار تھا جو اپنے وہ جو اپنے پرائے کا دمساز تھا وہ کہ مُردہ دلوں میں جو دم پھونک کر زندگی کے ترانے سناتا رہا جو سدا صبر کا درس دیتا رہا جو مصائب میں بھی مسکراتا رہا