یادِ محمود ؓ — Page 30
30 بارش کی طرح آنکھوں سے آنسو ہیں برستے تصویر بنا ابر کی آہوں کا دھواں ہے دل لاکھوں یہاں تیری جدائی میں ہیں پریاں تو آپ مگر رونق بستان جناں ہے آرام کی دنیا میں لیا تو نے بسیرا چھوڑا ہے جہاں ہم کو وہ صدموں کا جہاں ہے کیا لطف ہے اے جانِ جہاں جینے کا تجھ بن مشہور ہے یہ بات کہ جاں ہے تو جہاں ہے تھا سود و زیاں تجھ ہی سے وابستہ ہمارا اب سود کی پرواہ ہے نہ کچھ خوف زیاں ہے جس شان سے تو سینہ سپر تھا وہ تھی کچھ اور اولاد نری مانا کہ حق کی نگراں ہے قرآن کی تفسیر کے میداں میں ہمیشہ پاکنده درخشنده ترا حسنِ بیاں ہے فیض تری ہمت و کوشش کا یہ سارا آباد صنم خانوں میں گلبانگ اذاں ہے مشرق میں ترے عزم کی قائم قائم ہے تجلی مغرب میں نمایاں تری ہمت کا نشاں ہے ہر دیس میں اُلفت کے دیئے تو نے جلائے ملک میں اک پیار تیرا نور فشاں ہے ہر