یادِ محمود ؓ — Page 31
31 امت تری کوشش سرافراز ہوئی پھر اسلام ترے فیض سے تازہ ہے جواں ہے ہر روک ترے عزم کے طوفاں نے ہٹا دی دریا تری ہمت کا زمانے میں رواں ہے کر دیتی تھیں بے چین تجھے جن کی تکالیف ہر اک وہ فدا کار ترا محو فغاں ہے لیتا رہا دل تو مخالف کا ہر اک تیر پر ہر ظلم کی سہتا رہا سینہ سناں ہے حوصلگی تیری اعدا کو بلند حوصلگی مسلّم احباب پہ جاں دینے کا شیوہ تو عیاں ہے طوفانوں کے منہ موڑ کے دکھلا دیئے تو نے جرات کا بسالت کا تیری زیست نشاں ہے بیوائیں تجھے روتی ہیں روتے ہیں یتامیٰ دے ان کو تسلی میرے آقا تو کہاں ہے؟ کے تو نے تجھے یاد ہے اے موت ہے چھینا ظالم جگر گوشه ماموره چل جائے تیرا تیر کسی پر تجھے کیا غم بے رحم شب و روز کھیچی تیری کماں ہے زینت تھا کبھی تاج خلافت کے لئے جو کم بخت بتا وہ در شہوار کہاں ہے مامور زماں ہے