یادِ محمود ؓ — Page 29
29 29 مغموم ہے ہر جان تو ہر قلب تپاں ہے روتی ہوئی آنکھوں میں لہو دل کا عیاں ہے ناپید ہوئی بزم سے یوں روح طرب کی زندہ ہیں جو آج ان یہ بھی مردوں کا گماں وہ ہے آنکھ جو رہتی تھی تیری دید سے سیراب اس آنکھ کو آ دیکھ کہ خوں نابہ فشاں ہے تاریک ہوئے غم سے شب و روز ہمارے اے شمع سرا پرده تسکین کہاں ہے ممکن نہیں اشکوں سے کسی رنگ میں اظہار اس درد کے طوفان کا جو دل میں نہاں ہے ملکتے ہیں تو انصار ہیں بے تاب مغموم جدائی میں تیری پیر و جواں ہے خدام ڈر ہے کہیں رفتار ہی رک جائے نہ دل کی ناگاہ پڑا ہے رنج کا وہ بار بار گراں تو زندہ ہے مرنا تیرا ممکن ہی نہیں تھا اب تک دل ناداں کو کچھ ایسا ہی گماں محفل میں تیری کیف میں ڈوبی ہوئی تقریر تازہ ابھی آنکھوں میں وہ پُر لطف سماں ہے محروم تماشا ہوئیں بے تاب نگاہیں اب بعد تیرے کانوں پہ ہر نغمہ گراں ہے ہے