یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 28 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 28

80 28 جس سے کرسکتے تھے شکوہ ہم ستمگر موت کا چل گیا ہے آہ اب اس پر بھی چکر موت کا کیا ستم ہے موت کے خالق کے جو محبوب ہیں ان کے سینہ میں بھی گھس جاتا ہے خنجر موت کا اس کی چیرہ دستیوں کا کوئی شنوا ہی نہیں کیا حق و انصاف سے بالا ہے ہو کے رہ جاتا آخر لشکر موت کا بے بسی میں سرنگوں ہے سایه گستر جس پہ ہو جاتا ہے شه حقیقت میں ہر انسان دست آموز فنا زندگی پاتا ہے دروازہ گزر کر موت کا سر جھکاتا ہے اجل کے سامنے ہر ناتواں ہو کے رہتا ہے شکار آخر تو نگر موت کا پر موت کا موت کے خطرے سے بے پروا ہیں مردانِ خدا آپ وہ کرتے ہیں استقبال بڑھ کر موت کا وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا سے جو ہیں آشنا غالب آسکتا نہیں صیاد ان پر موت کا بے ثباتی اپنی گھل جاتی ہے ہر انسان پر جب رگِ جاں میں اتر جاتا میں اتر جاتا ہے نشتر موت کا راکھ ہو جاتی ہے جل کر کائنات آرزو جب درونِ دل چمک اٹھتا ہے اخگر موت کا فائدہ کچھ بھی نہیں ہے نالہ و فریاد سے مداوا ہی نہیں اے دیدہ تر موت کا موت پر اپنے عزیزوں کی عبث روتے ہیں ہم کتنے ناداں ہیں جو خوننابہ فشاں ہوتے ہیں ہم ( میر اللہ بخش تسنیم )