یادِ محمود ؓ

by Other Authors

Page 18 of 132

یادِ محمود ؓ — Page 18

18 مزار مبارک پر یہاں رحمت ایزدی کی بہاروں کا جو بن نکھرتا چلا جارہا ہے دل ناصبور اضطراب محبت میں چشم تصور پر اترا رہا ہے نظر اس پہ رکھتے ہیں شمس و قمر بھی فرشتوں کا پہرہ ہے اس خاکداں پر تقدیر اس خطہ ارض کی آج لاریب ہفت آسماں پر بکتی ہے فضاؤں ہے طاری ہے روح لطافت تقدس کا ماحول مہکا ہوا مری آرزوئیں ہیں جنت بداماں مرا جوش احساس بہکا ہوا ہے ترے لمحے لمحے کی یاد آرہی ہے تجھے آج بھی جیسے میں دیکھتا ہوں اگر ناگوار طبیعت نہ ہو تو بصد شوق اک بات کہنے لگا ہوں جلائی تھی جو تو نے شمع محبت مرے دل میں وہ آج خو دے رہی ہے تپش جذ به خدمت دین احمد ہر اک سمت بڑھ بڑھ کے کو دے رہی ہے تری بات بات آج اک مشعل راہ بن کر دکھاتی ہے منزل کا جادہ ترے علم کے بحر مواج سے شرق اور غرب کرتے ہیں آج استفادہ تری اک نظر نے جو دی تھی جلا ہر پرستار وحدت کے ذوق نظر کو اسی سے ملی زندگی اہل حق کو اسی نے جلایا ہے باطل کے گھر کو ترے ہر فدائی نے دین محمد یہ دل اور جاں یوں نچھاور کئے ہیں کہ بغض وعداوت کے تھے وار جتنے وہ سب اپنے دل اور جگر پر لئے ہیں ہوں نسیم اپنے پروردگارِ دو عالم سے اس لمحہ میں اک دعا مانگتا ازل سے چمکتی ہوئی بجلیوں کی فقط اک کرن کی ضیاء مانگتا ہوں (نسیم سیفی)