یادِ محمود ؓ — Page 19
19 میں سمجھا تھا تمہاری زندگی فانی نہیں ہوگی اجل سے تاقیامت ایسی نادانی نہیں ہوگی اگر سارا جہاں مرتا ہے تیرے بعد مرجائے کسی کی موت پر مجھ کو پریشانی نہیں ہوگی ترا ہر سانس اک موج بہار علم و عرفاں تھا وہ موج اب ضامن گلہائے عرفانی نہیں ہوگی کبھی مغرب کو للکارا کبھی مشرق کو للکارا نبردِ کفر و دیں میں تجھ سی جولانی نہیں ہوگی گدایان محمد کو کیا یوں تو نے صف آرا کہ اب ان کے مقابل شان سلطانی نہیں ہوگی تری تربت اے سالار! آئی ہیں تری فوجیں رجز خوانی کریں گی، مرثیہ خوانی نہیں ہوگی تجھے ہر دور کے تاریخ داں ڈھونڈیں گے دنیا میں تری وہ شخصیت اُبھرے گی جو فانی نہیں ہو گی جدھر نکلیں گے دیوانے تمہارے نقش پا ہوں گے کوئی وادی جنوں خوانوں میں انجانی نہیں ہوگی