وِرثہ میں لڑکیوں کا حصہ — Page 7
7 زمینداروں کو اپنی زمین بہت محبوب ہوتی ہے بلکہ اکثر زمیندار تو زمین کے ساتھ ایک گونہ عشق کا رنگ رکھتے ہیں اور جائز حد تک مال ہر شخص کو ہی پیارا ہوتا ہے۔مگر کیا ( دین حق ) اور احمدیت ہی نعوذ باللہ ایسی ناکارہ چیزیں ہیں کہ ان کے پیار کو ہر دوسری چیز کے پیار پر قربان کر دیا جائے؟ قرآن تو فرماتا ہے کہ:- الَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ یعنی جو لوگ سچے مسلمان ہیں انہیں اپنے خدا اور خدا کے احکام کے ساتھ ہر دوسری چیز کے مقابل پر زیادہ محبت ہونی چاہئے۔“ اور دنیا کے مال اور اولاد کے متعلق فرماتا ہے:۔اَلْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَوةِ الدُّنْيَاج وَالْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَيْرٌ اَمَلاه (الكهف : 47) د یعنی مال اور لڑکے (جن کی خاطر تم لڑکیوں کا حق مارتے ہو) محض اس ورلی دُنیا کی عارضی زینت ہیں مگر دائم اور قائم رہنے والی نیکی وہ ہے جو خدا کے حضور ثواب کا موجب اور اگلے جہان کی اُمید گاہ ہے۔“ پس اگر احمدیوں نے (دین حق ) کو سچا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ