وِرثہ میں لڑکیوں کا حصہ — Page 6
ایک احمدی خاتون جنہوں نے غلط میں اپنا نام ظاہر نہیں کیا لکھتی ہیں کہ جماعت کے ایک حصہ میں اور خصوصاً زمینداروں میں لڑکیوں کو حصہ نہ دینے یا ہوشیاری کے ساتھ لڑکیوں کا حصہ لڑکوں کی طرف منتقل کر دینے کی بدعادت ابھی تک چل رہی ہے۔چنانچہ اس خاتون نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ میرے والد صاحب جو کہ خدا کے فضل سے بظاہر بہت مخلص اور دیندار ہیں اور صاحب جائیداد بھی ہیں بلکہ بہت معقول جائیداد رکھتے ہیں مگر انہوں نے مجھے اور میری بہنوں کو حصہ نہیں دیا۔بلکہ ہمارے حصہ کی قیمت کے مطابق ہم سے روپے کی رسید لکھا کر ہمارے بھائیوں کے نام پر روپیہ جمع کرا دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔اگر یہ شکایت درست ہے ( اور میں یہ بات اگر کے لفظ کے ساتھ ہی کہہ سکتا ہوں گو بظاہر یہ شکایت درست معلوم ہوتی ہے واللہ اعلم) تو بہت قابل افسوس اور قابل ملامت ہے کیونکہ لڑکیوں کو ورثہ سے محروم کرنا نہ صرف شریعتِ اسلامی کے ایک صریح اور تاکیدی حکم کے خلاف اور گناہ ہے بلکہ حکومت کا بھی مُجرم ہے جس نے کچھ عرصہ سے یہ قانون بنا رکھا ہے کہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنی لڑکیوں کو شریعت کے مطابق حصہ دیں۔بیشک