وِرثہ میں لڑکیوں کا حصہ

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 8 of 16

وِرثہ میں لڑکیوں کا حصہ — Page 8

8 وآلہ وسلم کے دین کو خدا کی آخری اور کامل و مکمل شریعت سمجھ کر مانا ہے اور احمدیت کو خدا کی ایک رحمت یقین کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے۔تو ان کے لئے یہ امتحان کا وقت ہے یہ دُنیا ایک فانی چیز ہے۔کیا وہ اس کی چند روزہ زینت کی خاطر اور اس عارضی زندگی کی نمائش کی چمک کی وجہ سے خدا کی ابدی رحمت کو جواب دے دیں گے؟ خدا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق فرماتا ہے کہ:۔يُحى الدين و يقيم الشريعة (تذكره) دد یعنی ہمارا یہ مسیح دین کے مٹے ہوئے نشانوں کو زندہ کرے گا اور ترک شدہ شرعی احکام کو پھر دوبارہ دُنیا میں قائم کر دے گا۔“ پس آے ہمارے بھٹکے ہوئے بھائیو! اگر آپ میں سے کسی کو اپنے ایمان کی شرم نہیں تو کم از کم اپنے مقدس امام اور سلسلہ احمدیہ کے بانی کو تو خدا کے حضور شرمندہ ہونے سے بچاؤ ( کیونکہ بعض صورتوں میں خدا کے مرسلوں کو بھی اپنے متبعین کی بعض غلطیوں کے لئے جواب دہ ہونا پڑتا ہے) میں جانتا ہوں کہ خدا کے فضل سے جماعت کا بہت بڑا حصہ دین سے محبت رکھنے والا اور احکام شریعت کو شوق و ذوق سے ادا کرنے والا ہے مگر کہتے ہیں کہ ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے۔پس جب تک آپ اپنے میں سے ہر فرد کو دینِ حق ) کے احکام پر پختہ طور پر قائم نہیں کر دیتے یا کم از کم جب تک