حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 7
فَهُمُ الْخُلدون - الا نبیاء ع آیت : ۳۵) ترجمہ :۔اور ہم نے تجھ سے پہلے اسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کسی انسان کو خلود یعنی غیر طبیعی ملی زندگی نہیں دی۔کیا یہ ہو سکتا ہے کہ تو فوت ہو جائے اور وہ زندہ رہیں ؟ استدلال : دیکھو اللہ تعالیٰ کسی قدر غیرت سے فرماتا ہے کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ تو جو انْفَعُ لِلنَّاسِ ہے دُنیا سے رحلت کہ جائے اور کوئی تجھ سے پہلے کا انسان زندہ ہو۔پس ثابت ہوا۔حضرت مسیح تمام انسانوں کی طرح جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گذرے وفات پاگئے۔چوتھی آیت۔قرآن مجید فرماتا ہے :۔" يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ دَرَافِعُكَ إِلَى وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إلى يَوْمِ القِيمة : (ال عمران نے آیت : ۵۶) (OY ترجمہ :۔اسے عیسی میں تجھے تیری طبعی موت سے وفات دُوں گا۔اور تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا اور تجھے پاک کروں گا ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا اور تیرے متبعین کو قیامت تک تیرے منکرین پر غالب رکھوں گا۔استدلال :- اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ جب یہودیوں نے حضرت مسیح کی سخت مخالفت کی اور ان کو مارنا، در قتل کرنا چاہا اور قسم قسم کی تکالیف دینا شروع کیں تو اللہ تعالیٰ نے مسیح ناصری سے چار وعدے کئے جو ایک خاص ترتیب میں واقع ہوئے ہیں۔یعنی را) وفات (۲) رفع (۳) تظہیر (۴) غلیہ -