حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 8
پس اسی ترتیب کے مطابق اللہ تعالے نے پہلے حضرت عیسی کو وفات دی پھر ان کا رفع کیا۔پھر متر آن کے ذریعہ یہودیوں نے آپ پر جو الزامات لگائے تھے ان سے آپ کو پاک کیا پھر چوتھے وعدہ کے مطابق میچ کے تابعداروں کو یعنی عیسائیوں اور مسلمانوں کو آپ کے منکرین یعنی یہود پر قیامت تک غلبہ دیا جو ترتیب اللہ تعالے نے قرآنی الفاظ کی رکھی ہے اسی کے مطابق جب پچھلے تین وعدے مسلمہ طور پر پورے ہو چکے ہیں۔تو ضرور ماننا پڑتا ہے کہ پہلا وعدہ جو مسیح کی وفات سے متعلق تھا وہ بھی پورا ہو چکا ہے۔سوال : بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ یہاں جو لفظ مُتَوَفِّيكَ کا آیا ہے اس کا مصدر ہے تونی اور تونی کے معنے قبض روح یعنی وفات کے نہیں بلکہ اس کے معنے ہیں سارے کا سارا اُٹھا لینا۔اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ قرآن شریف کے ۲۳ مقامات میں لفظ توئی قبض روح کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اوّل سے آخر تک سارا قرآن پڑھ لو۔کہیں قبض روح کے بغیر اس لفظ کا استعمال نہیں ہوا۔لہذا یہ ہٹ دھرمی ہے کہ تونی کا لفظ جب کسی اور انسان ، رسول حتی کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استعمال ہو وہاں اس کے معنے قبض روح کے لئے جائیں اور جنب مسیح ناصری کے لئے استعمال ہو وہاں سارے کا سارا اٹھا لینا مراد لیا جائے۔یہ کیسا انصاف ہے ؟ دوسرا جواب یہ ہے کہ بخاری شریف میں حضرت عبد اللہ بن عباس جو جلیل القدر صحابی ہیں انہوں نے اس کی تشریح کی ہے :۔قَالَ ابْن عَبَّاسِ مُتَوَنِيْكَ أَنْ مُمِيتُكَ له : صحيح بخاري الجز الثاني كتاب التفسير باب مَا جَعَلَ الله من بعيرة