حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال

by Other Authors

Page 6 of 31

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وصال — Page 6

ترجمہ :۔اور جن معبودوں کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے۔بلکہ وہ خود پیدا کئے گئے ہیں وہ مردے ہیں نہ کہ زندہ اور وہ اتنا بھی نہیں جانتے کہ وہ کب اُٹھائے جائیں گے۔استدلال :۔دنیا میں جن لوگوں کی عبادت کی گئی اور ان کو خُدا کا شریک بنایا گیا۔ان میں حضرت مسیح کا نمبر پہلے درجہ پر ہے۔لہذا اس آیت کی رو سے جہاں سب بزرگ جن کو خدائی کا درجہ دیا گیا وفات یافتہ ثابت ہوتے ہیں وہاں حضرت مسیح پہلے نمبر پہ وفات یا فتہ ثابت ہوتے ہیں۔کیونکہ جتنی پوجا ان کی کی گئی اتنی پو جا خدا کے مقابل پر کسی دوسرے انسان کی نہیں کی گئی۔لہذا وہ اَمْوَاتُ غَيْرُ اختیار میں پہلے نمبر پر داخل ہیں یعنی وہ مردہ ہیں نہکہ زندہ اور وہ نہیں جانتے کہ ان کا بعث کب ہوگا ؟ سوال :۔بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس آیت سے ثبت مراد ہیں۔اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ ان معبودوں کے متعلق یہ مذکور ہے وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ یعنی وہ اتنا بھی نہیں جانتے کہ کب اُٹھائے جائیں گے۔اب ظاہر ہے کہ بعث یعنی اٹھایا جانا پتھر کے بتوں کا نہیں ہوا کرتا بلکہ انسانوں کا ہی موت کے بعد بعث ہوگا۔لہذا اس آیت میں انسانوں کا ذکر ہے۔(دوسرا) یہاں" الذين" کا لفظ استعمال ہوا ہے جو عربی قواعد کی رُو سے ذوی العقول یعنی عقل رکھنے والے جانداروں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔لہذا یہاں پتھر مراد نہیں ہو سکتے۔تیسری آیت - اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ تَبْلِكَ الْخُلْدَ۔آنان متَ