واقعات صحیحہ — Page 84
۸۴ حضرت مرزا صاحب کی پیشگوئی کہ وہ میرے مقابل کچھ بھی نہ لکھ سکے گا۔بڑی صفائی پوری ہوگئی۔اور لاہور میں رہ کر اُن کا آخرش ایکم ہو جانا اُس ذوالجلال خدا کے اُن کے منہ پر مہر لگانے کی وجہ سے تھا جس نے ان پر برگزیدہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی سے اپنا جلال ظاہر کرنے کے لئے یہ پیشگوئی کروائی تھی کہ پیر مہر شاہ اُن کے مقابل کچھ بھی نہ لکھ سکے گا۔خدا تعالیٰ نے ہمیشہ اپنی مستمرہ سنت اُسی طرح دکھائی ہے کہ اپنے مامورین کی تحدیوں کے مقابل معاندین کے منہ پھیر دیئے ہیں اور باوجود طرح طرح کی تحریکات کے اُن کے مفاصل کے پیچوں کو کس لیا کہ برگزیدوں کے سامنے آنے کی اُن میں حرکت ہی نہ رکھی اس لئے کہ رو برو ہو کر بھی ضروری تھا کہ وہ بیداد گر دشمن ذلیل اور رسوا ہوتے مگر دار الامتحان اور دار ایمان بالغیب علانیہ دارالمشہور بن جاتا اور یوں پاک طبع دانشمند شناخت کرنے والوں اور بہائم فطرت عوام میں بلحاظ تسلیم و اعتراف مامورحق کا کوئی ما بہ الامتیاز نہ رہ جا تا قرآن کریم سے اور گزشتہ انبیاء کی سنن سے ایسا ہی پایا جاتا ہے اب بتاؤ کیا اس منہاج پر ضروری نہ تھا کہ حضرت اقدس امام الزمان مرزا صاحب کی پیشگوئی اسی طرح پوری ہوتی سو وہ خدا کے فضل سے پوری ہوئی اور ہر طرح پوری ہوئی۔میں اس مقام تک پہنچا تھا جو چودھویں صدی کا پرچہ ۱۵ / اکتوبر ۱۹۰۰ ء مجھے ملا۔اُس مضمون ”مرزا قادیانی اور حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب پڑھ کر مجھے وہی تعجب اور معا رنج ہوا جو اُن ستمگر معتدی مخالفوں کے تحریروں سے ہوا کرتا ہے جو اسلام اور ہمارے نبی کریم ﷺ کی پاک ذات اور ذاتیات پر حملہ کرنے کی غرض سے شائع ہوتی رہتی ہیں مجھے دلی تاسف اور جاں گزا اندوہ سے اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ میں گجرات کے مدرس کی فطرت میں اور اپھیپھنی کلکتہ کے ایڈیٹر کی فطرت میں کچھ بھی تفریق نہ کر سکا۔مجھے جب سے خدا تعالیٰ کی کتاب مجید کو سمجھنے اور جناب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود کی ضرورت اور آپ کی کارگزاریوں کے فہم کا ملکہ بخشا گیا ہے سخت افسوس اور دلی رنج ہے کہ میں نے علی الاتصال ظالم اور معتدی پایا ہے۔اُن معترضوں کو جو قرآن کریم کی تعلیم اور ہمارے نبی کریم ﷺ کی لائف پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔میں اُن نکتہ چینوں میں ہمیشہ دو صاف ظلم پاتا ہوں (۱) عمداً خلاف حق کرنا اور (۲) جہالت سے کارروائی کرنا۔پہلی شق کی توضیح یہ ہے کہ انہوں نے