واقعات صحیحہ — Page 85
۸۵ ہمارے نبی کریم ﷺ کی لائف کے اُس حصہ پر اور فرقان حمید کی اس تعلیم پر اعتراض کئے ہیں اور شد و مد سے کئے ہیں جو اُن کی مسلمہ مقبولہ کتابوں میں موجود اور اُن صحیفوں کے لانے والوں کی پاک زندگیوں کا طریق عمل رہی۔اور وہ طرز زندگی اُن کی زریں زندگی اور قابل فخر زندگی تھی جس پر قدم مار کر آسمانی نصرتیں اور خدا تعالیٰ کی تائیدیں اُن کے شامل حال ہوئیں اور اُن کے دعووں کے نہ ماننے والے اور اُن سے مقابلہ کرنے والے کاٹ ڈالے گئے اور وہ تعلیم اور وہ طریق عمل ہے جس کی تائید میں قانون قدرت میں صاف صاف شہادتیں پائی جاتی ہیں۔دوسرا ظلم یہ ہے کہ وہ اُن حقیقی راہوں سے واقفیت پیدا کرنا چاہتے ہی نہیں یا سادگی سے ناواقف ہیں جو قرآن کریم کے حقائق معارف اور مہبط قرآن کی ذات کی شناخت کے لئے از بس ضروری ہیں۔یہی حال اس گجراتی مدرس معترض کا ہے جو انقلاب قسمت یا شقاوت ازل کے دباؤ سے گجرات کا تار جگ کی شکل میں مقلوب کر کے اپنے بہروپ کا پردہ فاش کرنا نہیں چاہتا۔میں بہت خوش ہوتا اگر اس کے اعتراضوں سے کچھ بھی بو انصاف اور خدا ترسی کی آتی۔میں ایک شخص ہوں جو خدا کے لئے اور خدا میں ہو کر اقرار کرتا ہوں کہ میں محض راستی کی محبت اور ابتغاء وجہ اللہ کی غرض سے حضرت مرزا صاحب کی خدمت میں بیٹھا ہوا ہوں اور میری روح مجھے یقین دلاتی ہے کہ میں کہ میں اس دعوی میں علی وجہ البصیرت صادق ہوں کہ اگر مجھے بیت اللہ میں ایک عظیم الشان مجمع کے رو برو کھڑا کر کے رب عرش عظیم کی پر ہیبت قسم دلائی جائے تو بھی میں بلند آواز سے کہوں گا کہ میں نے دس برس کے رات دن کے تجربہ اور مشاہدہ اور گہری اندرونی اور بیرونی واقفیت سے حضرت مرزا صاحب کو ویسا ہی اور اُسی طرح صادق منجانب اللہ پایا ہے۔جس طرح اور جس تجربہ سے اور رات دن کی گفتار و کردار کے مشاہدہ سے حضرت ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ ) نے جناب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور رسول اللہ پایا اور سمجھا اور پھر اس استقامت میں ذرا بھی تزلزل نہ آیا۔شروع دعوی میں کوئی نشان نہ تھا۔کوئی حیرت میں ڈالنے والی تعلیم نہ تھی۔جب راہ ہی میں سُن کر امام الصادقین والصدیقین مرسل اللہ ( صلے اللہ علیہ وسلم ) کی تصدیق کر اُٹھا۔اس راز کی کلید بجز اس کے اور کیا ہے کہ ابو بکر صدیق کو رات دن کی صحبت کے سبب سے حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ایک ادا صدق وحق کی سمجھ میں آ گئی