واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 73 of 142

واقعات صحیحہ — Page 73

۷۳ کہ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ پیر صاحب نے ایک شرط بڑھائی ہے۔افسوس روشنی سے کس قدر دشمنی رکھتا اور کبھی اُس کے جوار میں بھی رہنا پسند نہیں کرتا۔پیر صاحب نے شرط بڑھائی نہیں بلکہ ایک ایسی تجویز پیش کی جس کے لئے حضرت مرزا صاحب کی ساری شرطوں کو رد اور منسوخ کر دیا خدا کے لئے سوچو تو تفسیر القرآن سے قبل مرزا صاحب اپنے دلائل پیش کریں پھر پیر صاحب کھڑے ہو کر ان کا رد کریں۔بعد ازاں مولوی بٹالوی صاحب اور ٹونکی صاحب مرز اصاحب کے خلاف اور پیر صاحب کے موافق شہادت دیں اور پھر مرزا صاحب پیر صاحب کی بیعت کر لیں۔میں پھر کہتا ہوں کہ سوچو کہ وہ اصل بات تفسیر نویسی کی کہاں رہی۔کیا اس میں کوئی شک باقی رہ سکتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب اپنے عجیب علمی اور نظری دلائل بیان فرماتے اور پیر صاحب اُن کا وہی مولویا نہ رد کرتے تو عوام کا لانعام اور اُن کے بے شمار موٹی طبیعت والے متعلقین سبھی جذبات سے لبریز خدام پیر کی کافی سمجھ کر اُس کی تائید نہ کرتے اور بعد ازاں مسلم و مقبول معائد مولوی بٹالوی صاحب اور دوسرے لا بحب على بل ببغض معاویه پیر صاحب کے حق میں ڈگری نہ کرتے۔سوچو اور خدا کے لئے سوچو کہ حضرت اقدس کے دلائل شمس نصف النہار سے بھی زیادہ روشن اور مشہور ہیں۔پردہ نشین عورتوں تک وہ پاک اور آسمانی باتیں پہنچ چکی ہیں۔ان لوگوں نے اس سے پہلے کیا فائدہ ان سے اٹھایا ہے جو اس وقت انہی کے تکرار سے پھر اٹھاتے۔کیا اُن کی قوت غضی کا اشتعال کچھ بھی اب تک فرو ہو چکا تھا۔اس وقت تک ان کے بے شمار خط نا گفتنی اور ناشنیدی گالیوں سے بھرے ہوئے حضرت مرزا صاحب کی طرف آرہے تھے۔خدا کے لئے کوئی تو بتاؤ اور خدا لگتی کہو کہ کیا پیر صاحب نے یہ راہ مخلوق خدا کی بہتری کی سوچی اور کیا یہ انہیں حق کی سوجھی اور کیا اُنہوں نے سادگی اور حق پسندی اور حق طلبی سے ایک اور شرط بڑھائی۔یا حق و باطل میں شبہ ڈالنے کی ایک راہ نکالی۔جب مرزا صاحب کے دلائل کا پیر صاحب کی طرف سے رد ہو چکتا اور بے لوث مقدس گواہوں کی گواہی فیصلہ پیر صاحب کے حق میں دے چکتے اور مرزا صاحب و ہیں بیعت کر لیتے تو پھر کیا تفسیر قرآن بیعت ہو کر اور مرید بن کر لکھتے۔اس میں دو ایک باتیں ہی تنقیح طلب ہیں پھر رائے لگانے کے لئے راہ صاف نکل آتی تھی۔کیا پیر صاحب نے اسے صاف منظور کیا یا کسی بیچ کے ساتھ بھی منظور کر لیا اور کیا در حقیقت ایسے