واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 74 of 142

واقعات صحیحہ — Page 74

۷۴ نزاعوں میں جو امت محمدیہ میں واقع ہوتی ہیں اور جو نظری امور یعنی مباحثوں اور مکابروں سے فیصل ہونے میں نہیں آتیں وہ طریق فیصلہ کا حضرت مرزا صاحب نے پیش کیا اعلیٰ درجہ کا طریق اور کتاب اللہ کے منطوق کے موافق طریق ہے یا نہیں۔اور کیا اس طریق سے جو بسبب خرق عادت اور کرامت نمایاں ہونے کے بدیہی طریق اور واضح انام ہو جاتا اور کوئی بہتر طریق ہو سکتا ہے۔پیر مہر علی شاہ صاحب کی حجت بازی کیا راست بازوں اور راست کیشوں کے اطمینان قلب کا موجب ہوسکتی ہے؟ میں سمجھ نہیں سکتا کہ کوئی سلیم الفطرت اس بیان سے صاف نتیجہ نہیں نکال سکتا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب نے خدا تعالیٰ کی قوت و قدرت پر اعتماد نہ کر کے اور اپنے حریف کی قوت و شوکت سے مرعوب ہو کر اُس دعوت کے قبول کرنے سے گریز کیا مگر افسوس ایسی بار یک چادر میں اپنا شر مسار اور کھسیانہ منہ چھپایا جس کے اندر سے اُن کے انفعالات نفسانیہ ہر ایک ناظر کو صاف صاف نظر آگئے۔کون دانشمند سمجھ نہیں سکتا کہ کتاب اللہ کی پر معارف تفسیر عربی زبان میں لکھنا ان کو موت احمر نظر آئی جس سے بھاگ کر انہوں نے پھونس کی ٹیموں میں پناہ لی۔افسوس پیر صاحب نے اس دنیا کی شرمساری اور پردہ داری سے بہت خوف کیا اور حطام دنیا کی تلاش اور ابنائے دنیا کی دل جوئی نے انہیں پردہ کی اوٹ سے منہ باہر نکالنے نہ دیا مگر اُس ہولناک یوم کا دھڑ کا دل کو نہ لگا جس دن باطن کا باطن بھی طشت از بام کیا جاوے گا اور یوں ہو گا کہ۔زراندودگان را به آتش برند - چرید آید آنگہ کہ مس یا زراند - جب اُن کا دل احساس کرتا تھا اور ضمیر پورے شعور اور متنبہ سے اُنہیں چلا چلا کر کہتا تھا کہ قرآن کریم کے حریم قدس میں تمہیں شرف باریابی حاصل نہیں اور یہ کام در حقیقت مطہروں۔آسمانیوں انبیاء علیہم السلام کے ظلوں کا ہے۔اور پیر صاحب ایک شخص کو ایسا دعوی کرتے اور ہر روز تحدی کرتے دیکھ چکے تھے اور یہ ایک تحدی ہی ان کے لئے اگر وہ صاحب قلب ہوتے تو کافی آگاہ کرنے والی دلیل تھی تحدی کرنے والی فوق العادة دعوئی اور قدرت نمائی پر۔اس لئے کہ وہ اپنے اندر جھانک کر اپنی جیب کو اس گرامی قدر نقد سے خالی پاتے تھے اور اسی افلاس نے انہیں تفسیر کو ٹال دینے کے لئے حیلہ جوئی پر آمادہ کیا۔غرض جب پیر صاحب خوب جانتے تھے کہ وہ اس میدان کے مرد نہیں تو کیوں گزشتہ راستبازوں کی طرح صاف صاف اپنے عجز