واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 72 of 142

واقعات صحیحہ — Page 72

۷۲ حسین صاحب اور مولوی عبداللہ ٹونکی صاحب کھڑے ہو کر شہادت دیں کہ پیر صاحب کا رد درست اور مرزا صاحب کا دعوئی اور دلائل صحیح نہیں تب مرزا صاحب اُسی وقت اُسی مجمع میں پیر صاحب سے بیعت کر لیں۔یہ ہے جواب پیر صاحب کا اُس دعوت کے مقابلے میں جو حضرت مرزا صاحب نے اُن کی خدمت میں پیش کی۔اب ناظرین انصاف کریں کہ کیا پیر صاحب نے حضرت مرزا صاحب کی شرطوں کو منظور فرمایا اور کیا پیر صاحب نے قوم کے نزاعوں کے فیصلہ کے لئے جائز طریق ایجاد کیا؟ اور کیا قوم کی ڈوبتی کشتی کو ورطہ ضلال اور اوہام سے نکالنے کے لئے بجانا خدائی کی ؟ سوچو اور خدا کے لئے سوچو!! غضب اور تعصب سے بھرے ہوئے حاضرین ہوں۔اور ہر ایک نے ایک طرف کو سخت مضبوطی سے پکڑا ہو۔یہاں تک کہ شدت غضب اور تعصب سے اپنے حریف کے الفاظ کو بھی یوں سنتے ہوں جیسے کانوں میں پچھلی ہوئی رانگ ڈالی جاتی ہے۔پھر مباحثات علمی اور لفظی ہوں۔بیسیوں پہلو اور دلائل مخفی در مخفی اور کنایات و استعارات اور علوم کے حجب میں مخفی ہوں غرض سب امور نظری پر نظری ہوں۔اور اس پر طرفہ یہ کہ ایک شخص کو قبل از وقت دجال کذاب اور محرف دین اللہ اور مفتری اور کیا کیا مان چکے اور اس پر سخت جم چکے ہوں اور اُس کی اہانت کے لئے موقع تلاش کرنے میں جانیں کھپا رہے ہوں۔اُس پر یہ توقع کہ اس تدبیر سے کوئی فیصلہ ہو جاتا اور قوم کے دل صلح کاری کا سبق سیکھ لیتے اور صاف اور منور سطح پر سب کے سب بیٹھ جاتے قطعاً محال تھا۔کیا لوگ اب تک اس راز کو سمجھ نہیں گئے اور کیا ہمیں قوم کی سلامت فکرت اور جودة طبیعت سے سخت مایوس ہو کر بیٹھ رہنا چاہئے کہ پیر صاحب نے ان بالکل جدید شرطوں سے کیا مد نظر رکھ لیا۔کیا یہ بالکل صاف بات نہیں کہ انہوں نے اپنے دعوئی ولایت اور فقر کے برخلاف دنیا داروں کی طرح پُر مکر صاف فاش ہو جانے والی چال اختیار کی۔اگر راستی مطلوب ہوتی اور خدا کے دین کی حفاظت مقصود ہوتی تو کوئی امر اپنی طرف سے ایزا د نہ کرتے اور امر بھی وہ جو اُن کی شان اُن کی سند اور اُن کی ولایت کو داغ لگانے والا تھا۔جس صورت میں حضرت مرزا صاحب کی دعوت اور معیار فیصلہ وہی تھا جو خود کتاب اللہ نے مقرر کر رکھا ہے اور حضرت مرزا صاحب کی من عند النفس کوئی تجویز نہ تھی پھر اس کے ٹال دینے اور بالکل خاک میں ملا دینے کی کیوں کوشش کی گئی۔امرتسری صاحب فرماتے ہیں