واقعات صحیحہ — Page 26
۲۶ پیر صاحب اور ان کے مولوی غازی صاحب کے اس اشتہار مطبوعہ ۲۵ / جولائی ۱۹۰۰ء کے جواب میں حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے ایک اشتہار قادیاں سے ۱۴ اگست ۱۹۰۰ ء کو نکالا جس میں سید صاحب موصوف نے پیر صاحب اور غازی صاحب ہر دو کی تمام باتوں کے مفصل جوابات نہایت عمدگی سے دیئے اور پھر اتمام حجت کے واسطے یہ بھی لکھ دیا کہ اگر پیر صاحب سیدھی طرح حضرت امامنا کے مقابلہ میں تفسیر القرآن لکھنا نہیں چاہتے اور تفسیر القرآن میں مقابلہ کو ٹالنے کے واسطے ضرور مباحثہ ہی کرنا چاہتے ہیں تو مباحثہ کے واسطے میں حاضر ہوں اور ساتھ ہی سید محمد احسن صاحب نے یہ بھی تحریر فرمایا کہ اگر وہی تین مولوی جو ہمارے مخالف اور پیر صاحب کے موافق ہیں اس وقت مجوزہ قسم کھا کر یہ شائع کر دیں کہ پیر صاحب گولڑوی نے رعب میں آکر مقابلہ تفسیر کو ٹالنے کے واسطے یہ تجویز نہیں کی بلکہ انہوں نے نیک نیتی سے یہ کارروائی کی ہے تب بھی ہم مان لیں۔اس پر نہ تو مولوی محمد احسن صاحب کے ساتھ مباحثہ منظور کیا گیا اور نہ اُن تین مولویوں سے یہ قسم دلائی گئی کہ پیر صاحب گولڑوی کا یہ طریق مقابلہ تفسیر کو ٹالنے کے واسطے نہیں ہے۔اور پیر صاحب تو بالکل خاموش رہے لیکن راولپنڈی سے ان کے ایک مرید حکیم سلطان محمود خان نے گند کا بھرا ہوا ایک اشتہار شائع کر دیا کہ مولوی محمد احسن کے ساتھ مباحثہ ہم نہیں کرتے خود مرزا صاحب آویں۔اور لوگوں کو دھوکا دینے کے واسطے اپنی طرف سے اخیر میں مضحکہ کے طور پر حکیم سلطان محمود نے یہ بھی لکھ دیا کہ اگر مرزا صاحب نہیں مانتے تو پیر صاحب کو مرزا صاحب کی ہی ساری شرائط منظور ہیں مرزا صاحب آجاویں۔اس پر کئی ایک اشتہار اور خطوط (جو کہ اسی کتاب میں اپنے موقع پر آگے درج ہوں گے ) بخدمت پیر صاحب ہماری جماعت کی طرف سے ارسال کئے گئے اور درخواست کی گئی کہ جو کچھ آپ کا مرید کہہ بیٹھا ہے آپ اپنی زبان مبارک سے فرماویں کہ ہم کو سب شرائط مرزا صاحب کے بلا کم و بیش منظور ہیں مگر کیا مجال تھی کہ پیر صاحب ایسا کہتے بلکہ وہ دل ہی دل میں حکیم سلطان محمود پر خفا ہو ا ہوتے ہوں گے کہ وہ بے مراد کیوں بغیر ہماری اجازت کے ایسا کہہ بیٹھا۔اور اس کے بعد جب پیر صاحب لاہور میں آئے تو پیر صاحب کے مریدوں نے پھر وہی اشتہار مباحثہ کا دیا کہ پیر صاحب مباحثہ تقریری کے واسطے آتے ہیں۔