واقعات صحیحہ — Page 27
۲۷ جب پیر صاحب کے مریدوں نے عوام کو دھوکا دینے کے واسطے یہ مشہور کیا کہ پیر صاحب نے تمام شرائط مرزا صاحب کے مان لئے ہیں اور اب وہ مباحثہ تقریری کے واسطے لا ہور آنے والے ہیں تو ہمیں نہایت ہی تعجب ہوا کہ ایک طرف تو لکھتے ہیں کہ تمام شرائط مان لئے ہیں اور دوسری طرف ساتھ ہی یہ لکھ دیتے ہیں کہ مباحثہ تقریری کے لئے پیر صاحب یہاں آئیں گے۔یہ عجیب ایمان داری کی بات ہے۔کیا مباحثہ تقریری کے واسطے مرزا صاحب نے دعوت کی تھی جو تم کہتے ہو کہ مرزا صاحب کی دعوت قبول کی گئی ہے۔اس وقت پبلک کو اصل کیفیت سے آگاہ کرنے کے واسطے لاہوری خادمان حضرت مسیح موعود کی طرف سے دواشتہار مورخہ ۱۹ ۲۰ / اگست ۱۹۰۰ ء شائع ہوئے جو کہ ذیل میں درج ہیں۔فرار و انکار پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی از جلسه تحریر تفسیر قرآنی بمقابل حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اللہ تعالیٰ نے جب اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث کیا تو آنحضرت ﷺ کی نبوت کی تائید میں ہر طرح کے ثبوت، کھلے کھلے دلائل موجود تھے۔زمانہ کی تنگ و تاریک حالت چاہتی تھی کہ خاتم النبین پیدا ہو۔توریت اور انجیل کے نوشتے گواہی دیتے تھے کہ آنحضرت نبی برحق ہیں۔ہزاروں معجزے اور کرامات بھی دکھلائے گئے۔یہاں تک کہ آپ کی رسالت کی صداقت میں آسمان سے شق القمر نے بھی شہادت دی۔مگر کیا ہی پتھر دل تھے کفار کہ باوجود ان سب باتوں کو کوئی تو کہتا کہ یہ جادوگر ہے۔کوئی ادھر سے دوڑا آتا کہ جھوٹا ہے اس کی بات نہ سنو۔کوئی ادھر سے بھاگا آتا اور کہتا کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے سامنے آسمان سے کتاب اتارو۔ہم بھی ہاتھ لگا کر دیکھ لیں۔کوئی کہتا کہ تمہارے ساتھ فرشتے اور خزانے کیوں نہیں ہیں۔کوئی کچھ اعتراض کرتا کوئی کچھ۔غرض ایک طوفان بے تمیزی منکرین کے درمیان پھیلا ہوا تھا اور کہتے تھے کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں اور نہ خدا کا کلام اس پر اُترتا ہے۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ سے وحی پا کر حضرت رسالت مآب نے یہ مشتہر کیا کہ اگر یہ کلام خدا کی طرف سے نہیں تو چلو فیصلہ کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم بھی ایسا ہی کلام