واقعات صحیحہ — Page 95
۹۵ یوں مسلمانوں میں دہریت اور مادہ پرستی کا خوفناک طاعون پیدا کر چکے تھے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّالِ مُحَمَّدٍ - الحاصل گزشتہ نمونے اور موجودہ نمونہ دیکھ کر اگر علیگڑھ کالج کے بنانے والے کو پھر بھی الوہیت کا یہ راز سمجھ میں نہیں آیا تھا اور تکبر نے اُسے اجازت نہ دی کہ مرسل اللہ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور خدا تعالیٰ کے راز کو خدا تعالیٰ کے حریم قدس کے باریاب سے ہی حل کرواتا تو کم سے کم تفویض الی اللہ ہی کرتا اُس نے ناروا حجرات سے خدا کے کلام کی تحریف اور تسویل کی اور اپنے نزدیک اسلام کی طرف سے جواب دیا۔مگر در حقیقت اسلام کو جواب دیا۔اُسی بد عقیدہ اور بد تعلیم کا اثر ہے کہ ایک شخص کہہ رہا ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے حضرت مرزا صاحب کو اونچا کیا۔اس کے یہ معنے ہوئے کہ ایک شخص کی عظمت اگر چہ مصالحہ الہیہ کے خلاف تھی اور خدا تعالیٰ آسمان سے دیکھ چکا تھا کہ اُس کی ترقی در حقیقت اسلام اور مسلمانوں کے حق میں خانہ برانداز ہو گی مگر پھر بھی اُس نے ایسا ہونے دیا یا قانون قدرت میں جکڑ بند ہو جانے کی وجہ سے اُس کی مرضی کے خلاف ایسا ہو گیا۔سوچو اور خوب سوچو کہ ایسا اعتقاد خدا تعالیٰ کی ذات مستجمع جمیع صفات کا ملہ کے کس قدر خلاف ہے اور کیا در حقیقت ایسے عقیدہ سے دہریت کی بد بو نہیں آتی اور کیا یہ اُن لوگوں کا عقیدہ نہیں جو یہ کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایک فوق سے فوق قوت کا نام ہے مگر عالم کے تغیر و تصریف سے اُس کا کوئی سروکا رنہیں۔آج سے پینتیس سال پہلے حضرت مرزا صاحب نے خدا تعالیٰ کی ہمکلامی اور مورد الہامات الہیہ ہونے کا دعوی کیا۔اور اُس طرح اپنے الہامات کو تدوین اور مشتہر کیا جس طرح قرآن کریم مدوّن و مرتب اور مشتہر ہوا۔پھر خدا تعالیٰ کی وہ باتیں جو اُس نے اپنے بندہ غلام احمد کے منہ میں ڈالیں اسی طرح پوری ہوئیں جس طرح اس کی وہ باتیں آخر کار پوری ہوئیں جو اُس نے اپنے بندہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ میں ڈالی تھیں۔جس طرح قرآن کریم کی ملکی آیتوں کے وعدے اپنے منطوق و مفہوم کے موافق پورے ہو کر اس امر کا قطعی یقینی ثبوت ٹھہر گئے کہ قرآن خدا کا کلام ہے۔اسی نمونہ پر براہین احمدیہ کے مندرجہ