واقعات صحیحہ — Page 96
۹۶ الہامات اپنے منطوق و مفہوم کے مطابق بتدریج صادق نکل کر اس بات کا یقینی قطعی ثبوت ٹھہر گئے کہ لاریب وہ بھی اُسی طرح خدا تعالیٰ کا کلام ہیں۔یہی ایک بات تھی یعنی قرآن کریم کی زندگی کے نمونے جو مسلمانوں کے لئے جائے فخر تھے اور اس بات کی کمی نے دوسرے مذاہب کو مردہ ہونے کا داغ لگایا مگر افسوس اسی سے نادانوں نے انکار کیا اور اس زندہ ایمان کو اور اُس کے مُحی ہونے کو کفر سمجھا۔خدا اور خدا کا کلام۔اور وحی۔اور مکاشفہ غرض تمام لوازم نبوت اس زمانہ میں زمانہ کے عقلا کے نزدیک مضحکہ اور سخرہ ٹھہر چکے تھے۔اور ان باتوں کو انہوں نے وسواس اور تو ہم اور جنون کے مد میں داخل کر رکھا تھا۔اس لئے اُن کے پاس ان کا زندہ اور قاہر نمونہ نہ تھا۔اور قانون قدرت کا استقرا اس پر مجبور کرتا تھا کہ کسی شے کو نظیر کے بغیر تسلیم نہ کریں اور جس مذہب کو انہوں نے اس کے وکلاء اور شفعا کی پر زور وکالت کے زور سے مروج دیکھا تھا اُس میں اور اُس کے وکیلوں میں بھی کوئی زندہ نمونہ موجود نہ تھا۔دانشمند سنتے تھے اور بڑے زور شور سے سنتے تھے کہ آغاز مذہب میں اس کے بانی اور اُس کے ساتھیوں نے یہ اقتداری نشان دکھائے مگر یہ شنید اور دعوئی آخر کار دانشمندوں کے دل میں ایک حقارت آمیز اور نفرت انگیز تصور بن جاتا جبکہ وہ اس سوال کا جواب حامیان مذہب سے نہ پاتے کہ کیوں اس وقت ان باتوں کا کوئی زندہ نمونہ نہیں۔در حقیقت یورپ کی خوفناک آزادی۔دہریت۔فلسفیت اور میٹر یلیزم کی جڑ نصرانیت کے مردہ مذہب ہی سے قائم ہوئی کہ اُس نے خدا وہ پیش کیا جو عجز و ناتوانی اور سبکسری اور نا عاقبت اندیشی کا پورا نمونہ تھا۔اور معجزات وہ پیش کئے جو اس زمانہ میں مر گئے اور اُس وقت کی قبروں میں سونے والوں کے ساتھ ابدی تاریک گڑھوں میں گم ہو گئے۔اور آئندہ کو کوئی نمونہ ان کا دکھا نہ سکے اور کوئی نہ ہوا جو خدا تعالیٰ کے اقتداری نشانوں سے اُن پہلی باتوں کو از سر نو بحال اور زندہ کر دیتا۔قرآن کریم نے ایک ہی مقتدر معجزہ پر اپنے صدق کا سارا مدار رکھا یعنی پیشگوئیوں پر۔اس لئے کہ توریت میں بڑے زور سے یہی لکھا تھا کہ سچے نبی کی نشانی یہی ہو گی کہ جو کچھ وہ کہے گا پورا ہو جائے گا۔قرآن کریم میں اسی کی طرف اشارہ ہے اس آیت میں وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الَا قَاوِيلِهِ لَا خَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ۔(الحاقہ : 45 تا 47) اور اس آیت میں اِنْ يَّكُ كَاذِباً فَعَلَيْهِ كَذِبٌ