واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 94 of 142

واقعات صحیحہ — Page 94

۹۴ قدرت نے اُسے اور بھی اس بد عقیدہ پر مجبور کیا۔وہ نہ سمجھ سکا کہ گناہ میں اور طوفان میں مثلاً اور موسیٰ کی نافرمانی میں اور غرق فرعون میں دریا کے اندر اور خمود اور عاد اور قوم لوط کے گناہوں میں اور اُن بستیوں کی تباہی میں ریح اور رجز السماء کے ساتھ کون سا مربوط رشتہ ہے جو علت و معلول کے اندر ہوا کرتا ہے۔اسی جہالت نے اسے دعا کی قادرا نہ تاثیر اور خدا تعالیٰ کی یقینی وسائط یعنی ملائکہ کے انکار پر آمادہ کیا۔اتنی بات تو خدا تعالیٰ کی کتاب میں عیاں تھی کہ راستبازوں نے منکروں اور معاندوں کے مقابل پر تحدی پیشگوئیاں کیں۔وہ اس انکار و استکبار کے سبب سے خدا تعالیٰ کے آسمانی اور زمینی عذابوں سے ہلاک کئے گئے۔اور ان الفاظ میں وہ شوکت اور سطوت تھی جو کسی معمولی انسانی آواز میں کبھی نہیں ہوئی۔یہ پیشگوئیاں تمام راستبازوں کی اپنے اپنے وقتوں میں حرفاً حرفاً پوری ہوئیں۔اُس سنت الہیہ کے موافق اس آخری زمانہ میں بھی وہ دیکھ چکا تھا کہ خدا تعالیٰ کے مامور د مرسل حضرت مسیح موعود میرزا غلام احمد قادیانی نے خدا کے دشمن۔رسول کے دشمن۔قرآن کے دشمن۔قوم ، اسلام کے دشمن لیکھرام کے متعلق ایک قہری پیشگوئی کی جس کے پُر صولت الفاظ سے خون ٹپکتا تھا اور جن کی شوکت دکھاتی تھی کہ وہ خدائے قادر مقتدر قاہر کا کلام تھا۔ضعیف انسان ایسے ترکیب پر کبھی قادر نہیں ہو سکتا۔اور اُس کے مضمون دعا کے جواب میں قبول دعا کے نمونہ کے طور پر وہ پیشگوئی اُس کے آگے رکھی گئی تھی اور اُس کا پورا ہونا بھی اُس نے اپنی آنکھ سے دیکھ لیا تھا۔غرض قرآن کریم میں یہ باتیں موجود تھیں۔پھر اس زمانہ میں مجددین قرآن کریم نے انہیں زندہ اور تازہ کر دکھایا تا کہ منکروں پر حجت قائم ہو اور اعتزال اور شیعیت اور یورپ کے میٹر یلیزم اور دہریت اور نصرانیت کے اصولوں کا استیصال ہو اور خدا کی عزت اور قرآن کی عزت اور قرآن کریم کی پیشگوئیوں کی عزت دنیا پر ظاہر ہو۔اور گناہ اور اس کی سزا کی حقیقت دنیا پر آشکار ہو اور ثابت ہو جائے کہ خدا تعالیٰ اب بھی قانون قدرت پر ویسا ہی حکمران اور متصرف ہے اور ہمیشہ رہے گا جیسا کہ وہ اُس کی خلق کے وقت تھا۔اور اُس کے مقدس اور مقتدر ہاتھ کبھی بھی تصریف اور تصرف سے مغلول نہیں ہوئے اور نہ ہوں گے۔یہ احسان اسلام پر ایسے زمانہ میں عالیجناب حضرت امام مہدی مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا جبکہ اسلام کے نادان دوست اُس کی یگانہ خوبیوں اور خصوصیتیوں پر پانی پھیر چکے تھے۔اور