واقعات صحیحہ — Page 88
۸۸ قولہ:۔مرزا صاحب کی مالی حالت جو ابتدا میں سنی جاتی تھی اور جس افلاس میں وہ جکڑے ہوئے تھے وہ اکثر احباب واہل اسلام سے پوشیدہ نہیں۔مسکین اقول مرزا صاحب ابتدا میں اُسی طرح مال و زر کے لحاظ سے ناتوان اور م تھے۔جس طرح عبد اللہ کا بیٹا اور آمنہ کا جگر تھا ( صلے اللہ علیہ وسلم ) جس کی نسبت کتاب اللہ نے بڑے فخر سے شہادت دی ہے وَوَجَدَكَ عَائِلاً فاغْنی ( سورۃ الضحی ) اب بتائیے اس سے مرزا صاحب کی کون سی کسر شان یا اُن کے آئندہ دعووں کی ہتک لازم آئی۔کیا ضروری نہیں کہ خدا تعالیٰ کا ہر ایک برگزیدہ ابتدا میں پورے معنوں میں نا تواں ہو اور اُس ناتوانی کی حالت میں آئندہ آنے والی عظیم الشان حالت کی نسبت پیشگوئیاں اُس کے منہ سے نکلیں اور رفتہ رفتہ پوری ہو کر خدا تعالیٰ کی ہستی کی علامت اور اُس کے منجانب اللہ ہونے کا نشان ٹھہر جائیں اسی سنت کے موافق خدا کے برگزیدہ مرزا غلام احمد قادیانی ایک زمانہ میں اپنے پہلے نمونوں کے طرز پر مالی حالت میں سخت کمزور اور کس مپرس تھے اسی عرصے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آپ کو الہام ہوا اَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ یہ الہام آج سے تیس سال کی مدت کا ہے یہ پاک اور علوم غیب بلکہ حضرت مرزا صاحب کی آئندہ کی ساری زندگی پر مشتمل الہام اُس دن سے آپ کی انگشتری میں کندہ ہے۔اس الہام کو انہی دنوں سے قادیان کے متعصب آریہ ملا وامل اور شرمیت اور ، اور بہت سے جانتے ہیں۔اگر کوئی اور دلیل حضرت مرزا صاحب کے صدق پر نہ بھی ہوتی جب بھی یہ پر زور الہام کافی گواہی تھی۔اس پیشگوئی نے اپنا کام کس حیرت انگیز طریق سے کیا اور اس لمبی رفتار میں کیا کیا کرشمے دکھائے۔مہجور و متروک مرزا غلام احمد قوموں کے مرجع و مآب بن گئے۔ہزاروں لاکھوں نے انہیں شناخت کیا۔اور بے شمار راست بازوں نے آپ کو قبول کیا۔تاجروں ، ملازموں ، حرفے والوں اور زمانہ کے تعلیم یافتوں کے عدد کثیر نے اپنے اندوختے آپ کے پاؤں میں لا کر اُسی طرح رکھ دیئے جس طرح جیش العسرت کے وقت حضرت ذی النورین نے اپنا سب کچھ اپنے آقا کی خدمت میں حاضر کر دیا تھا۔براہین احمدیہ میں یہ جس میں سال کا یہ الہام موجود ہے۔كُنتُ كَنزاً مخفيّاً فَاَحَبَبْتُ أَنْ أَعْرَفَ اور فَحَانَ اَنْ تُعَانَ وَتَعْرَفُ بَيْنَ النَّاسِ يعنى وقت آتا ہے کہ تیری مدد کی جاوے گی اور تو لوگوں میں معروف ہوگا یعنی قو میں تجھے شناخت