واقعات صحیحہ

by Other Authors

Page 87 of 142

واقعات صحیحہ — Page 87

۸۷ اور ہزار ہا اشتہار ان دعووں اور دلائل پر لکھے گئے۔دنیا کے سلاطین کو۔قیصرہ ہند کو۔نواب و رؤسا کو۔ہر مذہب وملت کو ہر طبقہ کے لوگوں کو بڑی قوت سے یہ دعوت پہنچائی گئی۔پھر تمہیں ہزار آدمیوں سے زیادہ کا اس دعوت کو قبول کرنا اور جان سے مال سے عزت سے آبرو سے اس کی وہی عزت اور حمایت و تائید کرنا جو صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ظاہر کی اور بعض خدا شناس اور زندہ دل رئیسوں کا سوسو روپیہ ماہوار بالتعین دنیا اور بعض کا یک مشت ہزاروں تک نثار کر دینا اور سینکڑوں کا دائماً سر بستہ رقمیں معین طور پر ارسال کرتے رہنا۔اور پھر فضلاء اور علماء اور زہاد اور اتقیاء کا اس سلسلہ میں داخل ہونا بڑے بڑے اکابر اور مشائخ کا تسلیم کرنا الغرض سارے نشان جو پہلے راست بازوں کی مانند نشان ہیں کانہ اور اتنا بڑا دعویٰ کیا حق نہیں رکھتا اور ایک طالب حق کے دل میں بھی میلان پیدا نہیں کر سکتا کہ وہ ایک عرصہ ایسے شخص کی صحبت میں رہنا اختیار کرے۔خود دیکھے۔خود چکھے اور شنید پر انحصار نہ رکھے۔معترض نے (جس ظلم سے اپنا نام مبصر رکھا ہے ) تمہید میں ایمان اور ضمیر کے خلاف یہ ظاہر کیا ہے کہ ہم دونوں بزرگوں میں سے نہ کسی کے مرید ہیں نہ کسی کے طرفدار کہ ہم اس بارہ میں کچھ لکھنے کی کوشش کرتے اب دوستوں کے مجبور کرنے پر چند کلمات جو ہمارے نزد یک راست ہیں بطور رائے پبلک کے سامنے پیش کرتے ہیں ( یہ اوپر کے خط میرے کھینچے ہوئے ہیں اس لئے کہ خدا ترس دانشمند غور کریں کہ ذوو جہین معترض نے ان بالوں کا اپنے مضمون میں کہاں تک پاس کیا ہے مگر ان دو چار سطروں کے بعد فوراً قلبی عناد اور بغض اور حسد کی وہ زہر اگلی ہے جو صاف صاف بتاتی ہے کہ ایک دیرہ بینہ حاسد کی تحریر ہے جو مدتوں سے کڑھتا اور دکھتا اور سر دھنتا اور اس پاک سلسلے کی ترقی اور عظمت کو دیکھ دیکھ کر ڈاہ کے مہلک روگ میں گرفتار ہے اور بار ہا اس سے پہلے اس پر چہ میں اپنی اندرونی زہروں کو اگل چکا ہے اور اب بھی مقتضائے طبیعت کی وجہ سے مہر علی شاہ صاحب کے واقعہ کو ایک تقریب بنا کر دل کی بھڑاس نکالنے کا موقعہ پایا ہے۔لا رجک صاحب سنئے اور متوجہ ہو کر سنئے۔صفائی بیان اور توضیح مطلب کے لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قولہ اقول میں اس مضمون کو تقسیم کیا جائے۔