شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 46 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 46

لے۔اور یہ بھی کہا کہ ایک آدمی انگریزوں کی طرف سے سفیر بنگر امیر کے پاس آیا تھا جس وقت امیر قندھار گیا ہوا تھا۔اس نے بہت سی باتیں سنائیں اور مرزا صاحب کا ذکر بھی کیا تو امیر نے ناراض ہو کر سفیر کو بے عزت کر کے رخصت کر دیا اور انگریزی افسر کو اطلاع دی کہ ایسا نالائق آدمی میری طرف کیوں بھیجا گیا جو مجھے دین سے برگشتہ کرتا ہے۔گورنر نے یہ واقعہ سنا کر کہا کہ اس لئے میں یہ خط امیر کے پیش نہیں کر سکتا۔کہیں ایسا نہ ہو کہ امیر آپ جیسے بزرگ سے ساتھ بھی بری طرح پیش آوے۔یہ کہہ کر خط صاحبزادہ صاحب کو واپس دیدیا۔صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ آپ مجھے اجازت دے دیں کہ میں مسیح موعود علیہ السلام کے پاس ہو آؤں۔گورنر نے کہا کہ جس طرح میں اپنے بیٹے کو اجازت نہیں دے سکتا اسی طرح آپ کو بھی اجازت نہیں دے سکتا ہوں کہ آپ بھی ویسے ہی بڑے آدمی ہیں جیسا کہ میں۔امیر ہی اجازت دے تو دے میں اجازت نہیں دے سکتا۔ایک روز گورنر نے صاحبزادہ صاحب سے ذکر کیا کہ ملک میں بہت بڑا فساد پڑا ہوا ہے لوگ شیطان سیرت ہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی آپ کا دشمن آپ کی رپورٹ امیر کے پاس کردئے اور آپ کو امیر بلائے اس لئے چاہیے کہ آپ پہلے ہی سے امیر کے پاس ہو آئیں تا کہ آئندہ کوئی رپورٹ آپ کی نہ کر سکے۔دوسرے آپ ایک بڑی عزت اور بڑی پوزیشن کے آدمی ہیں آپ کو دیکھ کر امیر خود ہی بڑی عزت و توقیر سے پیش آئے گا اور آپ کی ملاقات سے خوشی ومسرت کا اظہار کریگا۔صاحبزادہ صاحب کچھ آدمیوں کے ساتھ کابل تشریف لے گئے۔کاہل میں امیر کا درباررات کو ہوا کرتا تھا۔آپ چند دن وہاں ٹھہرے۔جب دربار میں حاضر ہوئے تو امیر آپ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہا کہ رپورٹیں تو آپ کی بابت میرے پاس آئی تھیں مگر میں نے انکو نظر انداز کر دیا اور میں آپ کے آنے پر بہت خوش ہوا۔صاحبزادہ صاحب نے کچھ اور لوگوں کے متعلق بیان کیا۔امیر نے جواب دیا کہ ایسے