شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 47
آدمی بالکل ملتے ہی نہیں۔خیر آپ خاموش ہو گئے۔صاحبزادہ صاحب فرماتے ہیں کہ جب امیر سے ملاقات ہو چکی تو مجھے واپس گھر جانے کا خیال آیا لیکن اور جو معز ز لوگ دربار میں تھے انہوں نے مشورہ دیا کہ یہ امیز قابو میں نہیں۔ایسا نہ ہو کہ آپ گھر پہنچیں بعد میں آپ کو بلانے کے لئے آدمی بھیجے جائیں اس سے بہتر ہے کہ آپ کا بل میں ہی ٹھہر ہیں۔فرماتے ہیں تب میں نے امیر سے عرض کی کہ میں یہاں آپ کے پاس رہنا چاہتا ہوں۔امیر بہت خوش ہوا اور کہا بہت اچھا۔صاحبزادہ صاحب کو بہت شوق تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خط کسی نہ کسی طرح امیر کو دکھاؤں لیکن کوئی موقعہ ایسا نہ نکلا کہ آپ وہ خط پیش کریں۔اس عرصہ میں امیر بیمار ہو گیا اور اس جہان سے رخصت ہوا۔اسکے بعد بیٹا امیر حبیب اللہ خان تخت نشین ہوا۔مفصل جال اول حصہ میں بیان ہو چکا ہے۔آخر صا حبزادہ صاحب نے امیر سے رخصت لی۔امیر نے کہا کہ میرے والد آپ کی بڑی عزت کرتے تھے اسلئے میں بھی آپ کی عزت کرنی چاہتا ہوں۔آپ ہمارے مہربان نہیں اور محسن ہیں۔اسکے بعد امیر نے آپ کو رخصت کیا۔آپ خوست آئے اور وہاں سے بنوں پہنچے اور وہاں ایک مقام لگتی ہے یہاں ایک تحصیلدار عالم فاضل تھا اور ایک اور مولوی تھا دونوں نے آپ کی بڑی عزت کی۔اور چند روز ٹھہرانے کی آرزو کی۔دوسرے مولوی نے چھ مسائل پیش کیے اور کہا کہ لوگ مجھے ان مسائل کی وجہ سے کافر کہتے ہیں آپ اس کاغذ پر دستخط کر دیجیئے کہ یہ مسائل بچے ہیں اور یہ مولوی سچائی پر ہے۔آپ نے اسکو سچائی کا خط دیدیات حضرت صاحبزادہ صاحب نے تحصیل دار کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں سنائیں تحصیل دار چونکہ صاحب اور نیک آدمی تھا سنکر بہت خوش ہوا اور کہا کہ واقعی یہ باتیں بہت درست اور صحیح ہیں اور کچھ حقیقت ضرور رکھتی ہیں۔صاحبزادہ صاحب کو خیال