شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف

by Other Authors

Page 45 of 64

شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 45

۴۵ جانے لگا اور آپ کے منہ سے حقائق و معارف کو سنا تو اُسکے دل میں آپ کی بہت محبت پیدا ہوئی کبھی تو یہ صاحبزادہ صاحب کے پاس جاتا اور کبھی صاحبزادہ صاحب اُسکے پاس جایا کرتے۔اس طرح بہت محبت پیدا ہو گئی اور شرمندل خان نے ایک بچہ کی طرح آپ کے پاس پرورش پائی۔ان دنوں صاحبزادہ صاحب کے ایک شاگر د حج کے لئے روانہ ہوئے۔جب دہلی پہنچے تو کسی نے مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے متعلق بیان کیا اور تعریف و توصیف بھی کی تو ان کے دل میں شوق پیدا ہوا کہ قادیان پہنچ کر تحقیق کرنی چاہیے۔پس قادیان پہنچ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ملاقات کی اور کچھ باتیں کیں۔تو الفا کے دل میں حضرت کی بڑی عزت و حرمت پیدا ہوئی اور فوراً بیعت کر لی۔پھر جب واپس اپنے ملک کو جانے لگے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک خط امیر عبدالرحمن کو پہنچانے کی آرزو کی۔پہلے تو آپ نے فرمایا کہ تمہارا امیر ظالم اور نافہم ہے وہ یہ بات ماننے والا نہیں۔آخر ان کے اصرار پر حضرت صاحب نے خط لکھدیا۔جو چھپ کر شائع ہو چکا ہوا ہے۔خلاصہ لیا ہے۔کہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس زمانہ کے لئے ما مورد مصلح کر کے بھیجا ہے۔وہ تمام باتیں جو میں کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کرتا ہوں اور میں مجدد اس زمانہ کا ہوں اور رسول اللہ نے کی پیشگوئی کے مطابق آیا ہوں۔ﷺ۔الغرض اور بہت سی اچھی نصیحتیں تحریرفرما ئیں۔جب یہ اپنے ملک میں پہنچا تو اسنے یہ محط صا حبزادہ صاحب کو دیا اور سب حال من وعن سنایا۔صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ یہ بات تو بڑی سچی ہے۔اور یہ کلام ایک عظیم الشان کلام ہے لیکن بادشاہ اتن سمجھ نہیں رکھتا کہ وہ سمجھ لے اور مان لے۔اسلئے آپ کا یہ خط دکھانا بے سود ہے۔صاحبزادہ صاحب کے پاس یہ خط رہا۔اور آپ نے کسی موقعہ پر یہ خط شرمندل خان کو دکھلایا تا کہ اسکے ذریعہ امیر کے پاس پہنچ جاوے۔لیکن گورنر شرندل خان نے کہا کہ بات تو سچی ہے مگر اُمید نہیں کہ امیر مان