شہید مرحوم حضرت صاحبزادہ عبدالطیف — Page 44
لالي افسروں وغیرہ سے پوشیدہ تھا اسلئے بظاہر حاکم نے انکار کیا اور کہا کہ وہ فقیر آدمی ہے اسے کیا تکلیف دیں۔آخر افسروں کے اصرار سے حاکم اسکے گھر کا راستہ لیا۔اور پہنچنے پر اسکے مکان کو گھیر نے کا حکم فوج کو دے دیا۔اور مولوی کو امیر کا فرمان گرفتاری دکھا کر کہا کہ اگر تجھ کو خوشی سے امیر کے پاس جاتا ہے تو چل ورنہ زبردستی پابز نجیر لیجانا پڑے گا۔اس مولوی نے انکار کیا اور اسکے ایک شاگرد نے کھڑے ہو کر کہا کہ ہمارے صاحب ہر گز نہیں جائینگے۔حاکم نے صاحب کہنے والے کو تو نکلوادیا اور مولوی کو ہتھ کڑی لگا کر روانہ کیا۔جب حاکم چھاؤنی کے پاس پہنچا تو راستہ میں مولوی کے کچھ شاگرد ملے انہوں نے عرض کیا کہ آج رات مولوی صاحب کو ہمارے گھر میں ٹھہرنے کی اجازت دی جاوے۔کل چھاؤنی میں حاضر ہو جائیں گے حاکم نے ضمانت لیکر اجازت دے دی اور آپ چلے گئے۔صبح ہوتے ہی حاکم کو خبر پہنچی کہ مولوی بھاگ گیا ہے۔اندھیری رات تھی مولوی اونچے ٹیلہ پر بھاگ رہا تھا کہ ایک پتھر پر گر پڑا اور ٹانگ ٹوٹ گئی۔حاکم نے اعلان کیا کہ جو کوئی اس مولوی کو پکڑ کر لائے گا ایک سورو پہ انعام پائے گا۔اس راستے جس پر مولوی لنگڑ پڑا ہو تھا کچھ چنگر خانہ پروری جاتی ہے تھے اپنے اونٹ پر سوار کر کے حاکم کے دربار میں لے آئے حاکم نے چھاؤنی میں مولوی کو قید کر دیا تو اُسکے تمام عزیز اور شاگرد حال پوچھنے کے لئے آیا کرتے تھے۔اس حالت میں مولوی نے اپنے استاد منشور کی اور تمام اپنے ہم مشرب مولویوں کو اپنے قید ہونے کا حال لکھدیا۔چونکہ اس کے بھی شاگرد اور ہم مشرب بہت تھے فوج بنکر چھاؤنی پر حملہ آور ہوئے۔حاکم تو بھاگ کر منگل قوم باغی میں جاملا وہ چھاؤنی کو لوٹ کر مولوی کو چھیڑا لے گئے۔جس وقت امیر عبدالرحمن بنیاں کو خبر پہنچی۔شرندل خاں کو جو امیر کا رشتہ دار تھا مع فوج کثیر کے خوست بھیج دیا کہ وہ باغیوں کو رعایا اور مطیع بنائے ہے چنانچہ اس نے آکر بڑے رعب و دا سب سے تمام لوگوں کو حکومت میں۔لے لیا اور با امن رہنے کا سامان ہوا۔صاحبزادہ صاحب کی مجلس میں شرندل خاں آنے